ناروے میں قتل عام اور یورپ میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی

ا وسلو میں خوفناک قتل عام کے مجرم آندرے بیرنگ بریوک کے بارے میں یہ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ اقدام اس نے اکیلے کیا ہے ۔اس کے وکیل نے یہ انکشاف کیا ہے وہ لیبر پارٹی اور اس کی یوتھ تنظیم سے نفرت کرتا ہے جسے وہ (غلط طور پر )مارکسسٹ سمجھتا ہے ۔رپورٹس کے مطابق وہ عیسائی بنیاد پرست ہے جو ملٹی کلچر ازم،بائیں بازو اور مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا ہے
مختصر طور پر اس کی مزدور تحریک کے ساتھ نفرت کی وجہ طبقاتی ہے ۔لیکن قاتلانہ غیض و غضب کی وجہ یورپ پر مسلم قبضے کا خوف تھا ۔اس کے خیال مطابق لیبر پارٹی اسلام کے بارے میں نرم گوشہ رکھتی ہے ۔
یہ کسی ایک دائیں بازو کے شخص یا EDLجیسی کافاشسٹ تنظیم کا پاگل پن نہیں (جن سے وہ رابطے میں تھا اور ان کا احترام کرتا تھا )۔حقیقت میں اسلامو فوبیا سامراج کی نسل پرستی کا تحفہ ہے ۔اس کو میڈیا کے ذریعے یورپ میں مسلسل فروغ دیا جارہا ہے ۔جسے دسیوں لاکھوں لوگ پڑھتے اور سنتے ہیں ۔
دی میل،ایکسپریس،دی سن،سٹار سب باقاعدگی سے اس کی خبریں اور ادارئیہ شائع کرتے ہیں ۔جن مسلمانوں کی یورپ آمد کو عیسائی برداشت اور جمہوری روایات حملہ تصور کیا جاتاہے ۔ایک دہائی سے جاری پروپیگینڈے کا منطقی نتیجہ EDLاور اس کی کمپین ہیں کہ شدت پسند اسلام برطانیہ پر قبضہ کر سکتا ہے ۔
یہ کوئی تعجب کہ اگر سرمایہ دارانہ میڈیا ۔ایسے غلط خیالات دسیوں لاکھوں کو پیش کرے تو چند ہزار لوگ ان کو صحیح مان کر سڑکوں پر آجائیں اور مسلمانوں کو دھمکیاں دیں یا (جن لوگوں کو وہ سمجھیں کہ وہ مسلمان ہیں ۔)نہ ہی اس میں کوئی حیرانی کی بات ہے کہ بیروک جیسے افراد یا چھوٹے گروپ ان حالات میں اندھادھند دہشت گردی کریں جیسا ناروے میں ہوا۔
انجیلا مرکل جیسے عالمی رہنماء جب ملٹی کلچر ازم پر حملے کریں اور پوپ اصرار کرے کہ ترکی کو یورپی یونین میں نہ شامل کر کے عیسائی ورثہ کا دفاع کریں۔ یہ حالات مسلمان کے یورپ پر قبضے کے پاگل پن کے تصور کو مضبوط کرتے ہیں ۔اور ان کا منطقی نتیجہ نسل پرستی اور ناروے کا پاگل پن ہے۔
لیکن دہشت گردی کے خلاف غصہ اور متاثرین سے ہمدردی ،حکمران طبقے کے سیاست دانوں کی منافقت ہے ۔لیبیا،افغانستان اور پاکستان میں ان کی مسلح فوج اتنی ہی وحشیانہ مگر تسلسل سے معصوم نوجوانوں،ماؤں اور بچوں پر حملے کرتے ہیں ۔ان کے جنگی جہاز اور ڈراؤن حملے کسی طرح ناروے میں ہونے والے واقعات سے کم دہشت ناک نہیں اور نہ ہی ان کے متاثرین کی تکالیف ان کے خاندانوں کا دکھ کسی طرح کم ہے ۔زیادہ سے زیادہ ان سے سنگدل ’’معافی ‘‘مانگی جاتی ہے ۔اگر وہ چھپا نہ پائیں کہ متاثرین ’’دہشت گرد‘‘نہیں عام لوگ ہیں ۔افغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے سولین پر امریکہ معافی مانگنے سے مکمل انکار دیتا ہے ۔
برطانیہ اور ناروے نیٹو فورسزکا حصہ، اور جوان حملوں میں براہ راست شامل ہیں یا اس کے لئے امداد فراہم کرتے ہیں۔یہ سامراجی کلچرل کا حصہ ہے کہ ہم یورپین تکالیفوں کو انفرادی اور انسانیت پر مصیبت کی شکل میں پیش کرتے ہیں ۔جب کہ مسلمانوں کے بارے میں ہمارا یہ رویہ نہیں ہے ۔اس کے ساتھ ہم یورپین سماج کی اقدار برداشت ،کھلے معاشرے اور انسانیت کی ہمدردی کی تعریف کرتے ہیں یہ یقینی طور پر بیمار رویہ ہے ۔حتی کے غزہ 1400لوگوں کے اسرائیل کے ہاتھوں وحشت ناک قتل عام کوہم راکٹوں میں11اسرائیلیوں کے مارے جانے سے برابرتصور کرتے ہیں ۔
حملوں کو اس تناظر سے دیکھنے کا قطعی مطلب نہیں کہ ہم ناروے میں سرکاری ملازمین اور نوجوانوں پر ہونے والے حملوں اور اس کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔
یہ قتل و غارت گری محنت کشوں اور انٹر نیشلسٹوں پر حملہ ہے ۔جیسا کہ اوٹایا میں نوجوان پر حملہ جو فلسطین سے یکجہتی کے حوالے سے بحث کر رہے تھے ۔لیکن جن اقدار پر حملہ ہوا ہے اور جن اقدار کا ہم لازمی دفاع کرتے ہیں ۔یقینی طور نیٹو حکومتیں یا ناروے اور برطانیہ کی لیبر پارٹیوں میں کچھ مشترک نہیں ،جو افغانستان اور دیگر ممالک میں وحشتناک حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ عالمی یکجہتی کی اقدار ہیں ،مسلم کمیونییزکے ساتھ جو یورپ میں نسل پرستی کا سامنا کر رہی ہیں، مڈل ایسٹ کے ممالک جو تیل کی دولت کی وجہ سے سامراجی جارحیت کا شکار ہیں ،فلسطینیوں کے ساتھ جو صہونی ریاست اور اس کی پشت پر موجود امریکن اور یورپین سامراج کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کے واپس اپنے علاقوں میں بسنے کے حق میں، اس ساتھ مزدور تحریک اور جمہوری حق کا انتہا پسند دائیں بازو کے خلاف ،اس کے ساتھ میڈیا اور یورپ کی سیاسی جماعتوں میں نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کو بے نقاب کرنا ۔
اس کے لیے ہمیں سٹیورڈز منظم کرنے ہونگے ،اپنی حفاظت،اپنا دفاع انتہا پسند دائیں بازو کے خلاف جو موجود بحرانی صورتحال میں غصے کے شکار مزید لوگوں کو اپنی تنظیم میں لاسکتا ہے ۔آج مزدور تحریک کو یورپ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کا سامنا ہے ،آج کے عہد کا Antisemitismجب سرمایہ داری بحران کا شکار ہے ،اس سے ہر قدم پر مقابلے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: