پی ٹی سی ایل کے برطرف محنت کشوں کو بحال کرو

2005میں پی ٹی سی ایل کی پرائیویٹائزیشن کے وقت گورنمنٹ کے اعلی حکمرانوں کی ورکرز حقوق اور نوکریوں کے تحفظ کے لئے تحریری ضمانت دی گئی تھی اور ایتلاصات نے ورکرز کی تنخواہیں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ایتصلات انتظامیہ یو اے ایUAEکا پی ٹی سی ایل کو خریدتے وقت ملازمین کی شرائط ملازمت اور مراعات کے حقوق کو کم نہ کرنے کے لئے گورنمنٹ آف پاکستان کے ساتھ تحریری معاہدہ ہوا ۔
2006 میں ایتصلات نے پی ٹی سی ایل کا چارج لینے کے بعد گورنمنٹ کی مراعات سے جس سے چھوٹے ملازمین با مشکل روز مرہ زندگی گزارتے ہیں وہ بھی بند کردیں۔مجبورا2008میں گورنمنٹ کی طرف سے دی گئی مراعات کی بحالی کے لئے ورکرز کے احتجاج کے بعد ایتصلات انتظامیہ کا گورنمنٹ کی تمام مراعات بحال کرنے کا معاہدہ اور اعلان کیا گیا۔
2009میں مہنگائی کے مطابق گورنمنٹ کا اعلان کردہ 15فیصد تنخواہوں میں اضافہ بڑھانے سے ایتصلات انتظامیہ نے انکار کر دیا ۔ورکرز نے پر امن احتجاج کیا ۔مگر ایتصلات انتظامیہ نے پولیس سے ساز باز کر کے سینکڑوں غریب ورکروں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے پھر ماہ رمضان میں مزدور رہنماؤں کو جیل بھجوادیا ۔اور تب 15فیصد تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا ۔2010.11میں گورنمنٹ نے 50فیصد موجودہ بنیادی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا ۔ایتصلات انتظامیہ پھر انکاری ہوگئی ۔ورکرز نے پر امن احتجاج کیا ۔ایتصلات انتظامیہ نے پولیس سے ساز باز کر کے سینکڑوں غریب ورکروں اور مزدور رہنماؤں کے خلاف جھوٹے دہشت گردی اور دیگر مقدمات کی بارش کردی ۔تھانوں کے اندر معصوم ورکرز پر بد ترین تشدد کیا گیا روزے اور عید جیلوں کے اندر گزری 19000ورکرز نے تنخواہوں کے بغیر عید گزاری ۔
سینکڑوں ورکرز و نمائندے سیاسی و غیر قانونی بر طرف ۔ہزاروں ورکرز ایک سال سے جبری مشقت کے تحت آدھی تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور:
یہ ہے ملٹی نیشنل ایتصلات کی غنڈہ گردی اور مزدور دشمنی یہ ہے پرائیویٹازشن

پرائیویٹائزشن کے بد ترین پانچ سالہ لمحہ فکریہ 2006.2011ء
66ہزار ملازمین کی تنخواہ کم ہو کر 25ہزار کر دی گئی اور 41ہزار ملازمین کو نوکریوں سے فارغ اور بر طرف کردیا گیا ۔
29ارب روپے خالص منافع اب 9ارب روپے ظاہر کیا جارہا ہے اور باقی کرپشن کی نظر ۔ملک کو سالانہ 20ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔
PTCLپرائیویٹائزشن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بقول ایشیاء کا سب سے بڑا مالی اسکینڈل ہے۔
وزیر پرائیویٹائزشن کمیشن کے مطابق پی ٹی سی ایل پرائیوٹئزشن میں بڑے گھپلے اور ملکی مفاد کے خلاف ہے ۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے مطابق پرائیویٹائزشن غیر قانونی اور اس سے قوم کو 84ارب روپے کا نقصان ہوا ہے ۔

کھربوں روپے کا پی ٹی سی ایل ایتصلات کے فورا حوالے کردیا گیا اور وہ بھی صرف 26فیصد کی ادائیگی پر اور 5سال کی آسان اقساط میں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: