برطانیہ میں فسادات اور سرمایہ داری کا بحران

تحریر:کامریڈ:رمضان
2011فسادات، جدوجہد اور انقلابات کا سال ہے اور اب کی بار یہ برطانیہ میں ہوا جہاں پچھلے ایک سال سے جدوجہد منظم ہو رہی تھی ۔وہاں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام مارک ڈگن کے مارے جانے کے بعد فسادات نے ٹوٹنہم میں جنم لیا۔
میڈیا میں دانشور،سیاست دان اور پولیس والے ان مظاہرین کو مجرم بتاتے رہے ہیں کیمرون نے ان سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا حقیقت میں یہ عوامی ابھار نفرت کا اظہار ہے ،نسل پرست پولیس کی ہلاکتوں ،روزانہ کی بد سلوکیوں کے خلاف ،اس کے علاوہ نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بڑے پیمانے پر مراعات،اور مقامی سروسز میں کٹوتیوں کے خلاف،جن میں نوجوانوں کی سروسز کی بڑی تعداد شامل ہیں۔
مارک ڈکن کا ٹوٹنہم پولیس کے ہاتھوں قتل اوراس کے خاندان اور پر امن مظاہرین کی طرف پولیس رویے نے چنگاری کو شعلے میں بدل دیا ۔Brixtonفسادات کی 30ویں سال لوگ بھولے نہیں کہ اس محروم ترین علاقے میں 80کی دہائی میں بڑی تحریک نے جنم لیا تھا ۔
پولیس کی نسل پرستی کالے لوگوں کے خلاف ایک وجہ تھی مگر صرف یہی وجہ نہیں ہے مختلف رپورٹس کے مطابق سفید فام اور یہودیوں نے بھی مظاہروں کے دفاع کی حمایت کی، جب پولیس نے پر امن مظاہرے میں 16سال کی لڑکی پر حملہ کیا ۔اس رپورٹ کو سوموار کو بی بی سی کی کوریج میں شامل نہیں کیا گیا۔
ٹوٹنہم کی لڑائی میں مظاہرین نے پولیس کو پیچھے دھکیل دیا اور کچھ وقت کے لئے غریب مقامی نوجوانو ں کو یہ مواقع فراہم کیاکہ وہ دکانوں پر حملہ کرسکیں اور چیزیں چرائیں ۔
برطانیہ میں دس لاکھ سے زائد نو جوان بے روزگار ہیں جن میں 50فیصد سیاہ فام ہیں،یونیورسٹی کی تعلیم پہنچ سے باہر ،کالج بہت مہنگے ہو گئے ہیں ۔مراعات کا بڑے پیمانے پر خاتمہ ہوا ہے مقامی کونسلزنے تقریبا 75%یوتھ سروسز کا خاتمہ کر دیا ہے ۔ٹوٹنہم کی ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا ’’اس طرح یہاں ہم تبدیل ہوئے ہیں ،ابھار کے بعد ہمیں ایک نیا سوئمنگ پول ملا ہے ۔ایسا اس سے پہلے یہاں نہیں ہوا۔‘‘
ہمارا نقطہ نظر بہت واضح ہے ۔ہم سو فیصد مظاہرین کے ساتھ اور پولیس کے مخالف ہیں اس ساری صورتحال کے پیچھے بنیادی وجہ سرمایہ داری نظام کا عالمی معاشی بحران ہے جس کے نتیجے میں سرمایہ دار محنت کشوں اور غریبوں پر بڑے پیمانے پر حملے کر رہا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نفرت اور غصے کو محنت کشوں کی تحریک کے ساتھ ایسے منظم کیا جائے کہ سرمایہ داری نظام کے استحصال ،غربت اور بھوک کا خاتمہ کر دیا جائے

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: