حکمران طبقہ کے تضادات اور محنت کش عوام

سپریم کورٹ کا26اپریل کا فیصلہ،وزیر اعظم کا مستعفی نہ ہونے کا اعلان اور اپوزیشن کایوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم منانے سے انکار اور تحریک چلانے کا اعلان بنیادی طور پر حکمران طبقہ میں بڑھتے ہوئے تضاد ات کو ظاہر کررہا ہے۔
ریاستی دہشت گردی
یہ سب ایک ایسے پس منظر میں ہورہا ہے جب حکمران طبقہ نے پورے ملک میں آگ اور خون کا کھیلا شروع کررکھا ہے۔بلوچستان،گلگت بلتستان میں اہلِ تشیع،کوئٹہ میں ہزارہ،کراچی میں سندھی،بلوچ،مہاجر اہلِ تشیع،اوراہلسنت سب ہی مارے جارہے ہیں۔ہر جگہ اس عمل میں ریاستی دہشت گردی جاری ہے۔
پیپلزپارٹی اور نیولبرل اکنامک پالیسیز:
پیپلزپارٹی کا 4سالہ دور اقتدار لوٹ مار،سامراجی ایما پر اپنے ہی لوگوں پر فوجی آپریشن اور ڈروان حملوں پر مشتمل ہے۔اس کے ساتھ معیشت کی بحالی کے نام پر نیولبرل اکنامک پالیسیز جاری ہیں۔جس کا مطلب نجکاری،نوکریوں کا خاتمہ،محنت کشوں کے اوقات کار میں اضافہ،زراعت کو کاروبار بنانا،سماجی سہولیت کا خاتمہ،جب کہ سرمایہ داروں کو ٹیکس میں چھوٹ۔اس سب کا مقصد عالمی اور مقامی سرمایہ کے منافع میں اضافہ،لیکن اس کا نتیجہ محنت کش عوام کی لیے غربت،بیروزگاری اور مہنگائی کے سوا کچھ نہیں اور اس سب کے ساتھ بے تحاشہ کرپشن جو ٹھیکوں اور معاہدوں کے نتیجہ میں ہوتی ہے۔جب اس صورتحال کیخلاف آواز اُٹھائی جاتی ہے تو اس کا حل پھر اس نیولبرل اکنامک پالیسیز میں بتایا جاتا ہے، جو پہلے ہی عوام کی زندگی دوبھر کرچکا ہے۔
ریلوئے،واپڈا اور دیگر اداروں کی تباہی کو جواز بنا کر کہا جاتا ہے ان تمام مسائل کا حل نجکاری ہے۔حقیقت میں نجکاری نجی سرمایہ کے منافع اور لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
ریاستی اداروں میں تصادم اور عدلیہ کا کردار
ریاستی اداروں کا یہ ٹکراؤ بنیادی طور پر حکمران طبقہ کے اندرونی تضادات کا نتیجہ ہے۔یہ صورتحال پاکستان میں نئی نہیں ہے، حکمران طبقہ کی کمزور پوزیشن کی وجہ سے ریاست کا کردار نہایت ہی اہم ہو گیا ہے۔عمومی طور پر یہ کردار فوج کی طرف سے سامنے آتاجو اس وقت اس پوزیشن میں نہیں کہ یہ کردار ادا کرسکے۔مشرف کے خلاف وکلاء تحریک ،ڈروان حملوں اوراسامہ بن لادن کے پاکستانی حدود میں قتل نے عوام میں اس کی بالادستی کو کافی نقصان پہنچاہے۔اس کے ساتھ بلوچستان میںیہ حقوق اور قومی آزادی کی جنگ کو کچلانے میں مصروف ہے۔
ان حالات میں یہ کردار عدالت ادا کررہی ہے ،جس نے مشرف مخالفت اور اس کے اقتدار کے خاتمے کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔وکلاء تحریک کی کامیابی کے بعد سے عدالت کے اعتماد میں کافی اضافہ ہوا اور پچھلے عرصے میں ہونے والے بے شمار اقدامات اس کے غمازی ہیں۔آج یہ سیاست اور حکمرانی کا اہم حصہ ہے۔جو سیاسی تبدیلی کا ذریعہ بن کر سامنے آرہی ہے۔
یہ بات بلکہ واضح ہے کہ عدلیہ کا مقصد کوئی حقیقی تبدیلی نہیں،جیسا کہ اصلاح پسند امید لگائے بیٹھے ہیں یہ ادارہ ریاست کا حصہ ہے اور اس کا مقصد نظام تحفظ ہے نہ کہ اس میں کوئی ریڈیکل تبدیلی۔یہ ممکن ہے کہ یہ تبدیلی کہ نام پر چند اقدامات کرئے مگر اس کی وجہ نظام پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنا۔
محنت کش طبقہ اور انقلاب
حقیقت تو یہ ہے کہ نہ عدلیہ اور نہ ہی پارلیمنٹ عوام پرسامراج کی جارحیت،بلوچوں کے حقوق کادفاع ،اہلِ تشیع کا قتلِ عام روک سکتی ہے اور نہ ہی معاشی مسائل کا حل کرسکتی ہے،جس نے محنت کش عوام کی زندگی اجیرن بنارکھی ہے۔
ان حالات میں یہ محنت کش طبقہ اور مظلوم عوام ہیں جو ان مسائل اور نظام کے خلاف جدوجہد منظم کرسکتے ہیں اور آج یہ ممکن ہے جب حکمران طبقہ آپس میں لڑ رہا ہے توہمیں زردار ی حکومت کے خلاف جدوجہد منظم اور وسیع کرنی ہوگی یہ محنت کشوں کے اقتدار اور سوشلزم کے لیے جدوجہد کا حصہ ہے.۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: