Archive for May, 2014

May 21, 2014

واسا کی نجکاری کا منصوبہ نامنظور


واسا کا محکمہ جولاہور کے شہریوں کو پانی اور سنیٹیشن کی خدمات فراہم کرتا ہے اور چند سال پہلے تک منافع میں تھا ۔اسے ایک منصوبے کے تحت پنجاب حکومت خسارے میں لائی تاکہ اس کی نجکاری کی جاسکے،پہلے اس کو بجلی کمرشلریٹس پر فراہم کی گئی،پھر کرایے پر جنریٹر لے کر چلائے گے اور اب جنریٹر خرید لیے گے اور یہ سب ایک ایسے انداز میں ہوا کہ ایک منافع بخش ادارہ نقصان میں چلا گیا۔اب اس کوکمپنی بنانے کانوٹس جاری ہوگیا ہے۔اس وقت تین سب ڈویژن کمپنی کے تحت ہیں،باقی بھی کمپنی کے حوالے کردیے جائیں گئیں۔شالیمار سب ڈویژن میں نئی ملازمتیں دینے کی بجائے ہفتہ وار چھٹی ختم کردی گی ہے۔اس وقت واسا میں5332ورکرز کی نوکری پکی ہے ،جبکہ 1200کے قریب محنت کش کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر ہیں۔ڈیلی ویجز کی صورتحال بہت بری ہے ان کو سال میں آٹھ ماہ کی تنخواہ ملتی ہے۔لیکن یہ اس کے باوجود نوکری کررہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔
واسا کے محنت کشوں کا جی پی فند بحال نہیں ہوا حالانکہ پنجاب بھر میں دو سال سے اسے دوبارہ لاگو کردیا گیا ہے۔کنٹریکٹ ورکرز600کے قریب ہیں اور یہ سالوں سے جاب پر ہیں لیکن ان کو مستقل نہیں کیا جارہا اور پکی نوکریوں کو ختم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔تاکہ ان ورکرز اور نئے بھرتی ہونے والے محنت کشوں کو کم ازکم تنخواہ پر نوکری دی جائے۔اس وقت SKRAکمپنی نہایت کم تنخواہ پر محنت کش فراہم کرہی ہے ۔
لاہور میں پہلے 20گھنٹے پانی دیا جارہا تھا ،اب اس کی فراہمی 12گھنٹے کردی گئی ہے،پہلے بل150 تھا اب اس کو 600روپے کردیا گیا ہے،پہلے یہ سال میں 4دفعہ آتاتھا اب ہر ماہ آیا کرئے گا۔سیوریج کھولنے کی فیس بھی جلد ہی لاگو کی جارہی ہے۔ابھی یہ سب کمپنی کے تحت ہوگا ۔لیکن نجکاری میں کیا ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔لاہور کے شہری جو آج پانی کو آرام سے استعمال کرتے ہیں۔یہ ان کے لیے یہ ایک نایاب شئے بن جائے گئی۔
سولڈ ویسٹ منجمنٹ کی جب نجکاری کی گئی تھی تو حکومت محکمے کو 2ارب روپے دئے رہی تھی،اس وقت ترکی کی کمپنی کو نجکاری کے بعد 12ارب روپے دیئے جارہے ہیں اور لاہور کی صفائی میں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑا،البتہ سالڈویسٹ منجمنٹ کے محنت کشوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جارہا ہے،خاص کر کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے محنت کشوں کو جن کی بڑی تعداد کرسچن ہے۔جو اس وقت سراپہ احتجاج ہیں۔
یہ صورتحال واسا کے محنت کشوں میں بے چینی کا باعث بن رہی ہے کہ نجکاری کے بعد ان کا کیا مستقبل ہوگا،خاص کر پچھلے کچھ عرصے سے مختلف بہانے بنا کر واسا کے محنت کشوں کو شدید ہراساں کیا جائے اور نوکریوں سے نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ان حالات میں واسا کے محنت کش پچھلے چند دنوں سے سراپا احتجاج ہیں۔آج واسا میں عام ہڑتال تھی اور محنت کشوں نے کوئی کا م نہیں کیا۔اس کے علاوہ لاہور پریس کلب پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔جس میں 4000کے قریب محنت کش شریک ہوئے اس مواقع پر پنجاب حکومت اور شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف شدید نعرئے بازی ہوئی اور محنت کشوں نے اس عزم کا اظہار کیا کے وہ کسی بھی صورت میں ادارے کی نجکاری نہیں ہونے دئیں گئیں۔اس احتجاج کی کال CBAنے دی تھی۔لیکن واسا کی تمام تر یونینز اس ہڑتال اور احتجاج میں شریک ہیں
Image

May 3, 2014

محنت کشوکے بھگت سنگھ

تحریر:حسن رضا
فیصل آباد کے پاور لومز کے محنت کشوں کے راہنماوں کاجیل میں تیسراسال ہے۔یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ کیسے اپنا حق مانگنے کو حکمران طبقہ اور اس کی ریاست نے جرم میں تبدیل کردیا،جس کی سزا6محنت کشوں کو 496سال دی گی اور اب اسی کیس میں 7محنت کشوں کو287سال کی سزا سنائی گی ہے۔یہ 13محنت کش لیبر قومی موومنٹ کے راہنما تھے۔جو جولائی 2010کی محنت کشوں کی ہڑتال میں اہم کردار ادا کررہے تھے۔اس کا مقصدحکومت کی طرف سے کم ازکم تنخواہ میں17فیصد اضافہ کے اعلان پر عملدرآمدکروانا Imageتھا۔جس سے مالکان انکاری تھے۔

یکم جولائی کو جب فضل ویونگ کے محنت کش ہڑتال میں شمولیت کے لیے فیکٹری سے باہر آرہے تھے تواندار سے ان پر فائرنگ کی گی،جس پر کچھ محنت کش بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندارگے اور انہوں نے غنڈوں کو غیر مسلح کیا۔جن کو مالکان ہڑتالی محنت کشوں پرحملہ کے لیے لائے تھے۔
محنت کشوں کی مرکزی ریلی کو اسی دن ایک بار پھر حملے کا سامنا کرنا پڑا،جس میں ایک طرف بڑی تعدادمیں مالکان کے غنڈے تھے،جنہوں نے اینٹوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا اوردوسری طرف سے پولیس والے تھے،جنہوں نے ہوائی فائرنگ اوربے انتہا آنسو گیس کی شیلنگ کی۔جب مالکان اور ریاست کا وحشیانہ تشدد اور بربریت جاری تھی،اس دوران فیکٹری کو آگ لگ گی۔جس کا الزام ہڑتالی محنت کشوں پر عائد کردیا گیا۔جس کو بعدازں محنت کشوں کی طرف سے تشدد کے طور پر پیش کیا گیا۔حالانکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تین دن بعداس کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں لیبر قومی موومنٹ کے چودہ راہنماوں اور150دیگر ہڑتالیوں کو نامزد کیا گیا۔تین ماہ بعد جب ان کو عدالت میں پیش کیا گیا،تو ان پر اقدام قتل اور فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا جس کا مقصد فیکٹری کے مالکان کا قتل تھا جس کا پہلی ایف آئی ار میں کوئی ذکر نہیں تھا۔
اس صورتحال کے باوجود عدالت نے ان محنت کشوں کو مجرم قرار دے کر496سال کی سزا سنادی۔یہ ایک شرمناک صورتحال تھی،جہاں اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن محنت کشوں کے راہنماوں کو بدترین سزا دی گی۔وہاںیہ اس ’’ریاست،اس کے اداروں اور قانون کی حکمرانی‘‘ کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔کیسے ریاست نے سرمایہ کے خادم کے طور پر محنت کشوں کو حقوق کی جدوجہد پر وحشیانہ سزا دی۔یہ محنت کش طبقہ کی تحریک پر سرمایہ کی طرف سے ایک بڑا حملہ تھا۔جس میں یہ واضح کیا گیا کہ سرمایہ کے مفاد کے خلاف کھڑے ہونا کا کیا مطلب کیا ہو تا ہے۔یہ ان محنت کشوں کو سمجھنا ہے،جنہوں چیف جسٹس کی بحالی کی جدوجہد میں حصہ لیا کہ سرمایہ داری میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کا کیا مطلب ہو تا ہے۔
لیبر قومی موومنٹ،فیصل آباد کے پاور لومز کے2لاکھ محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم ہے،محنت کش طبقہ کے اس حصے نے پچھلے عرصے میں جدوجہد اور قربانی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ان پر نیولبرل ریاست نے چند دن پہلے ایک اور حملہ کیا اور7محنت کشوں کو 287سال کی سزا سنائی ہے۔ان حالات یہ مزدور تحریک کی طرف سے بڑے پیمانے پرمشترکہ جدوجہد اور یکجہتی کے متقاضی ہیں۔تاکہ نہ صرف ان محنت کشوں کی رہائی کی جدوجہد کو وسیع تر کیا جائے اور ان کے موجود حق اور جدوجہد کا دفاع کیا جائے۔بلکہ یہ سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف جدوجہد کے سوال کو بھی سامنے لاتی ہے۔
پاکستان اور عالمی مزدور تحریک سے جدوجہد اور یکجہتی کی اپیل ہے۔جس میں قید محنت کشوں کے خاندانوں اور ان کے کیس پر ہونے والے اخراجات کے لیے فنڈ ریزنگ اور احتجاجی تحریک کی ضرورت ہے،اس کو ایک وسیع تر تحریک بنایا جاسکے۔تاکہ حکمران طبقہ کو ان محنت کشوں کے لیے’’انصاف‘‘پر مجبور کیا جاسکے۔ایک مضبوط اور کامیاب تحریک محنت کش طبقہ کے باقی حصوں کو بھی اعتماد بخشے گی،جس سے پاکستان میں ایک نئی تحریک جنم لے سکتی،جو اس نظام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔