محنت کشوکے بھگت سنگھ

تحریر:حسن رضا
فیصل آباد کے پاور لومز کے محنت کشوں کے راہنماوں کاجیل میں تیسراسال ہے۔یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ کیسے اپنا حق مانگنے کو حکمران طبقہ اور اس کی ریاست نے جرم میں تبدیل کردیا،جس کی سزا6محنت کشوں کو 496سال دی گی اور اب اسی کیس میں 7محنت کشوں کو287سال کی سزا سنائی گی ہے۔یہ 13محنت کش لیبر قومی موومنٹ کے راہنما تھے۔جو جولائی 2010کی محنت کشوں کی ہڑتال میں اہم کردار ادا کررہے تھے۔اس کا مقصدحکومت کی طرف سے کم ازکم تنخواہ میں17فیصد اضافہ کے اعلان پر عملدرآمدکروانا Imageتھا۔جس سے مالکان انکاری تھے۔

یکم جولائی کو جب فضل ویونگ کے محنت کش ہڑتال میں شمولیت کے لیے فیکٹری سے باہر آرہے تھے تواندار سے ان پر فائرنگ کی گی،جس پر کچھ محنت کش بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندارگے اور انہوں نے غنڈوں کو غیر مسلح کیا۔جن کو مالکان ہڑتالی محنت کشوں پرحملہ کے لیے لائے تھے۔
محنت کشوں کی مرکزی ریلی کو اسی دن ایک بار پھر حملے کا سامنا کرنا پڑا،جس میں ایک طرف بڑی تعدادمیں مالکان کے غنڈے تھے،جنہوں نے اینٹوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا اوردوسری طرف سے پولیس والے تھے،جنہوں نے ہوائی فائرنگ اوربے انتہا آنسو گیس کی شیلنگ کی۔جب مالکان اور ریاست کا وحشیانہ تشدد اور بربریت جاری تھی،اس دوران فیکٹری کو آگ لگ گی۔جس کا الزام ہڑتالی محنت کشوں پر عائد کردیا گیا۔جس کو بعدازں محنت کشوں کی طرف سے تشدد کے طور پر پیش کیا گیا۔حالانکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تین دن بعداس کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں لیبر قومی موومنٹ کے چودہ راہنماوں اور150دیگر ہڑتالیوں کو نامزد کیا گیا۔تین ماہ بعد جب ان کو عدالت میں پیش کیا گیا،تو ان پر اقدام قتل اور فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا جس کا مقصد فیکٹری کے مالکان کا قتل تھا جس کا پہلی ایف آئی ار میں کوئی ذکر نہیں تھا۔
اس صورتحال کے باوجود عدالت نے ان محنت کشوں کو مجرم قرار دے کر496سال کی سزا سنادی۔یہ ایک شرمناک صورتحال تھی،جہاں اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن محنت کشوں کے راہنماوں کو بدترین سزا دی گی۔وہاںیہ اس ’’ریاست،اس کے اداروں اور قانون کی حکمرانی‘‘ کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔کیسے ریاست نے سرمایہ کے خادم کے طور پر محنت کشوں کو حقوق کی جدوجہد پر وحشیانہ سزا دی۔یہ محنت کش طبقہ کی تحریک پر سرمایہ کی طرف سے ایک بڑا حملہ تھا۔جس میں یہ واضح کیا گیا کہ سرمایہ کے مفاد کے خلاف کھڑے ہونا کا کیا مطلب کیا ہو تا ہے۔یہ ان محنت کشوں کو سمجھنا ہے،جنہوں چیف جسٹس کی بحالی کی جدوجہد میں حصہ لیا کہ سرمایہ داری میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کا کیا مطلب ہو تا ہے۔
لیبر قومی موومنٹ،فیصل آباد کے پاور لومز کے2لاکھ محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم ہے،محنت کش طبقہ کے اس حصے نے پچھلے عرصے میں جدوجہد اور قربانی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ان پر نیولبرل ریاست نے چند دن پہلے ایک اور حملہ کیا اور7محنت کشوں کو 287سال کی سزا سنائی ہے۔ان حالات یہ مزدور تحریک کی طرف سے بڑے پیمانے پرمشترکہ جدوجہد اور یکجہتی کے متقاضی ہیں۔تاکہ نہ صرف ان محنت کشوں کی رہائی کی جدوجہد کو وسیع تر کیا جائے اور ان کے موجود حق اور جدوجہد کا دفاع کیا جائے۔بلکہ یہ سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف جدوجہد کے سوال کو بھی سامنے لاتی ہے۔
پاکستان اور عالمی مزدور تحریک سے جدوجہد اور یکجہتی کی اپیل ہے۔جس میں قید محنت کشوں کے خاندانوں اور ان کے کیس پر ہونے والے اخراجات کے لیے فنڈ ریزنگ اور احتجاجی تحریک کی ضرورت ہے،اس کو ایک وسیع تر تحریک بنایا جاسکے۔تاکہ حکمران طبقہ کو ان محنت کشوں کے لیے’’انصاف‘‘پر مجبور کیا جاسکے۔ایک مضبوط اور کامیاب تحریک محنت کش طبقہ کے باقی حصوں کو بھی اعتماد بخشے گی،جس سے پاکستان میں ایک نئی تحریک جنم لے سکتی،جو اس نظام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: