واسا کی نجکاری کا منصوبہ نامنظور


واسا کا محکمہ جولاہور کے شہریوں کو پانی اور سنیٹیشن کی خدمات فراہم کرتا ہے اور چند سال پہلے تک منافع میں تھا ۔اسے ایک منصوبے کے تحت پنجاب حکومت خسارے میں لائی تاکہ اس کی نجکاری کی جاسکے،پہلے اس کو بجلی کمرشلریٹس پر فراہم کی گئی،پھر کرایے پر جنریٹر لے کر چلائے گے اور اب جنریٹر خرید لیے گے اور یہ سب ایک ایسے انداز میں ہوا کہ ایک منافع بخش ادارہ نقصان میں چلا گیا۔اب اس کوکمپنی بنانے کانوٹس جاری ہوگیا ہے۔اس وقت تین سب ڈویژن کمپنی کے تحت ہیں،باقی بھی کمپنی کے حوالے کردیے جائیں گئیں۔شالیمار سب ڈویژن میں نئی ملازمتیں دینے کی بجائے ہفتہ وار چھٹی ختم کردی گی ہے۔اس وقت واسا میں5332ورکرز کی نوکری پکی ہے ،جبکہ 1200کے قریب محنت کش کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر ہیں۔ڈیلی ویجز کی صورتحال بہت بری ہے ان کو سال میں آٹھ ماہ کی تنخواہ ملتی ہے۔لیکن یہ اس کے باوجود نوکری کررہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔
واسا کے محنت کشوں کا جی پی فند بحال نہیں ہوا حالانکہ پنجاب بھر میں دو سال سے اسے دوبارہ لاگو کردیا گیا ہے۔کنٹریکٹ ورکرز600کے قریب ہیں اور یہ سالوں سے جاب پر ہیں لیکن ان کو مستقل نہیں کیا جارہا اور پکی نوکریوں کو ختم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔تاکہ ان ورکرز اور نئے بھرتی ہونے والے محنت کشوں کو کم ازکم تنخواہ پر نوکری دی جائے۔اس وقت SKRAکمپنی نہایت کم تنخواہ پر محنت کش فراہم کرہی ہے ۔
لاہور میں پہلے 20گھنٹے پانی دیا جارہا تھا ،اب اس کی فراہمی 12گھنٹے کردی گئی ہے،پہلے بل150 تھا اب اس کو 600روپے کردیا گیا ہے،پہلے یہ سال میں 4دفعہ آتاتھا اب ہر ماہ آیا کرئے گا۔سیوریج کھولنے کی فیس بھی جلد ہی لاگو کی جارہی ہے۔ابھی یہ سب کمپنی کے تحت ہوگا ۔لیکن نجکاری میں کیا ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔لاہور کے شہری جو آج پانی کو آرام سے استعمال کرتے ہیں۔یہ ان کے لیے یہ ایک نایاب شئے بن جائے گئی۔
سولڈ ویسٹ منجمنٹ کی جب نجکاری کی گئی تھی تو حکومت محکمے کو 2ارب روپے دئے رہی تھی،اس وقت ترکی کی کمپنی کو نجکاری کے بعد 12ارب روپے دیئے جارہے ہیں اور لاہور کی صفائی میں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑا،البتہ سالڈویسٹ منجمنٹ کے محنت کشوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جارہا ہے،خاص کر کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے محنت کشوں کو جن کی بڑی تعداد کرسچن ہے۔جو اس وقت سراپہ احتجاج ہیں۔
یہ صورتحال واسا کے محنت کشوں میں بے چینی کا باعث بن رہی ہے کہ نجکاری کے بعد ان کا کیا مستقبل ہوگا،خاص کر پچھلے کچھ عرصے سے مختلف بہانے بنا کر واسا کے محنت کشوں کو شدید ہراساں کیا جائے اور نوکریوں سے نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ان حالات میں واسا کے محنت کش پچھلے چند دنوں سے سراپا احتجاج ہیں۔آج واسا میں عام ہڑتال تھی اور محنت کشوں نے کوئی کا م نہیں کیا۔اس کے علاوہ لاہور پریس کلب پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔جس میں 4000کے قریب محنت کش شریک ہوئے اس مواقع پر پنجاب حکومت اور شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف شدید نعرئے بازی ہوئی اور محنت کشوں نے اس عزم کا اظہار کیا کے وہ کسی بھی صورت میں ادارے کی نجکاری نہیں ہونے دئیں گئیں۔اس احتجاج کی کال CBAنے دی تھی۔لیکن واسا کی تمام تر یونینز اس ہڑتال اور احتجاج میں شریک ہیں
Image

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: