سامراجی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے تضادات

ترجمہ:فیروز عمران
نئے عہد کا آغاز:
عالمی نظام کے خدوخال جو سویت یونین کے انہدام کے بعد ابھرئے تھے ان کو سیاسی سطح پر شدیدزلزلے کا سامنا ہے ۔سامراجی ممالک کے درمیان اقتصادی پابندیوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں،حکمران طبقہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ایسی کوئی بھی صورتحال کمزور معاشی بحالی کا خاتمہ کرسکتی ہے۔موجود صورتحال خانہ جنگیوں اور عالمی سطح پرایک نئی سرد جنگ کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔اس کا مطلب ہے ہم ایک ایسے عہد کی طرف بڑھ رہے ہیں،جہاں انقلاب اور ردانقلاب تیزی کے ساتھ سامنے آئیں گے۔
امریکی بالادستی کا خاتمہ:
مشرق وسطی،مشرق،ساوتھ ایسٹ ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ہونے والے واقعات امریکہ کے بالادست کردار کے خاتمہ کا اعلان کرہے ہیں اور عالمی سطح پر سامراجی تضادات کی شد ت میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ دنیا کولوٹ مار کے لیے دوبارہ تقسیم کرنے کی کوشش کا آغاز ہے اور یہ پرانی سامراجی قوتوں امریکہ،جرمنی اور فرانس کی قیادت میں یورپی یونین ،برطانیہ اور جاپان کی قیمت پر ہوگا۔اس کا فائدہ نئے ابھرتے ہوئے سامراجی ممالک چین و روس اور تیزی سے ترقی کرے ہوئے ممالک انڈیا اور برازیل اُٹھا رہے ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جارحیت نئی طاقتوں کی طرف سے ہورہی ہے،جیسا کا مغربی حکمران طبقہ اور میڈیا کہ رہا ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہے،امریکن اور یورپین حکمران طبقہ جنوبی ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ جو طویل عرصہ سے ان کی لوت مار کے لیے مختص تھے ان میں خاصکر چین کی بڑھتی ہوئی ’’پرامن ‘‘ مداخلت سے خوف زدہ ہے۔
سامراجی تضادات:
ان حالات میں یہ انتقامی طور پر چین اور روس کے گرد دائرہ تنگ کررہے ہیں ۔اس لیے امریک پسیفک کو اپنی حکمت عملی کامحور بنا رہا ہے اور مشرق وسطی اور افغانستان سے پیچھا چھڑا رہا ہے۔2013میں امریکی سامراج کو شام میں ذلت آمیز شکست،لاطینی امریکہ میں بڑھتی ہوئی پاپولسٹ امریکہ مخالف حکومتوں کا قیام،مختلف افریقی ممالک میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورثوخ،امریکی سامراج کو پاگل بنا رہا ہے۔ یہاں تک کہ یوکرائین میں اس نے کھلے عام ایک خودمختیار ریاست میں فاشسٹ گرپوں کی مدد کرکے نہ صرف ان کے اقتدار کی راہ ہموار کی اور اس کے نتیجے میں کریمیا نے یوکرائین سے علیحدہ ہو کر روس سے الحاق کرلیا۔ایسا کرتے ہوئے امریکہ نے اکھڑ پن سے یورپی یونین کی طرف سے سمجھوتے کو قبول کرنے سے انکار کردیا جواس ساری صورتحال میں پوٹین کو بے عزتی سے بچا رہی تھی۔اس بغاوت نے روسی صدر کو بہانہ فراہم کیاکہ وہ کریمیا پر غیر منصفانہ قبضہ کرلے۔ پوٹن کا سامراج کسی طور پر اوباما،کیمرون اورمرکل کے سامراج سے بہتر نہیں ہے،جیسا کہ شام میں اسد کی خونی حکومت کی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جہاں اوبامہ اور کیری ،پوٹین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں،وہیں اس کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دئے رہے ہیں۔امریکی سامراج اس وقت وینزویلا میں دائیں بازو کے مظاہروں کو ہوا دئے رہاہے اور مصر میں آمر السیسی کے ہاتھوں ایک ہزار سے زائداخوان مظاہرین کے قتل وعام پر خاموش ہے۔
انٹرنیشنل ازم:
محنت کش ایک عالمی طبقہ ہے،جس کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کسی بھی سرمایہ دارنہ بلاک کے مفادات کے تابع یا کسی سامراجی طاقت سے وابستہ ہو کر،حتی کہ مظلوم اقوام کا محنت کش اپنے سرمایہ دار کی بالادستی قبول کر لے ممکن نہیں،۔ طبقاتی آزادی بنیادی بات ہے۔اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اس عہد کے تقاضوں سمجھ جائے کہ ہم انتشار،جنگ اورنقلابات سے دہائیوں دور نہیں ہیں۔
ہم خود کو یہ دھوکا نہیں دئے سکتے کہ برطانیہ اس ساری صورتحال کا شکار نہیں ہوگا اور اس کو شاندار استشناحاصل ہوگا۔برطانوی سامراج جتنا بھی بوڑھا ہو یہ عالمی سطح پر استحصال اور خون میں لتھرا ہوا ہے۔
اس پرانتشار عہد میں حالات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی آرہی ہیں۔انقلاب ، ردانقلاب اور نیم رجعتی معروض بڑی تیزی کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں۔جن میں اکژپہلے سے طے شدہ حکمت عملی ناکام ہوجاتی ہے،ان حالات میں محنت کش طبقہ کے ہراول دستہ کو تیزی سے حالات کے مطابق اپنے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ عرب انقلاب2011میں ظالم حکمرانوں کے خلاف جمہوری اور جائز بغاوت تھی جیسے آج بھی شام میں جاری ہے یایوکرائین کی صورت میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ردانقلاب ،انقلاب کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
اس کے ساتھ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ حقیقی دشمن ہمارا حکمران طبقہ ہے اوراس کی اقتصادی پابندیوں کی سختی کے ساتھ مزاحمت کرنی چاہیے،جو دنیاکو خطرناک تجارتی و سرد جنگوں اور پر انتشار اور تباکن دور کی طرف لے جارہی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: