یوکرائین میں ردانقلاب اور فاشسٹ مخالف جدوجہد

اوڈیسا میں منظم قتلِ عام،جس میں 42لوگ کیف کی حکومت سے منسلک فورسز کے ہاتھوں مارے گے،یہ یوکرئین حکومت کے رجعتی کردار کو واضح کرتا ہے۔میڈان انقلاب حقیقت میں ردانقلاب تھا،جو دائیں بازو کے قوم پرستوں(جو مغرب کے نیولبرل ایجنٹ ہیں)فاشسٹ فرنٹ پارٹی(سبودباہ) اور فاشسٹ ملیشاء کو اقتدار میں لے کر آیا۔موجود حکومت میں نظم ونسق برقرار رکھنے میں اہم کردارفاشسٹ ملیشاء کو دیا گیا ہے۔کیف حکومت کا مقصد،یوکرئین کو یورپ اور شمالی امریکی سرمایہ کے شکنجے میں دینا ہے اور اس کے لیے وہ
فاشسٹ ملیشاء اور پولیس کی دہشت کو یوکرئین میں استعمال کررہی ہے۔فاشسٹ،جنوبی اور مشرقی یوکرئین کے شہروں پر حملوں میں بنیادی کردار ادا کررہے ہیں۔
مغربی سامراج سے یوکرائن کی آزادی ،مشرق اور جنوب میں جاری جدوجہد سے جڑی ہوئی ہے۔روسی سامراج اپنے مفادات کے لیے مزاحمت کی حمایت کررہا ہے،یہ ایک جھوٹا دوست اور غدار اتحاد ی ہے۔مغربی سامراج کے ساتھ جنیوا معاہدے،25مئی کے انتخابات کی حمایت اور11مئی کے ریفرنڈم کی مخالفت،یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ پوٹین یوپین یونین خاص کر جرمنی سے مفاہمت اور یوکرئین پرمشترک کنٹرول چاہتا ہے۔لیکن اصل مسئلہ امریکہ اور یورپی یونین میں اس کے ایجنٹ(برطانیہ اور پولینڈ) ہیں،جو کسی بھی نوعیت کے سمجھوتے کو مسترد کررہے ہیں اور کیف حکومت کی غیر مشروط حمایت کررہے ہیں،حالانکہ اس سے خانہ جنگی،فاشسٹ قتلِ عام اورنیوکلر ریاستوں کے درمیان جھڑپوں اور ایک نئی سرد جنگ کا خطرہ موجود ہے۔
تاہم ڈونیسک رپبلک کے لیڈروں کی طرف سے علیحدگی کا اعلان اورریشین فیڈریشن میں شمولیت کی اپیل ایک خطرناک عمل اورمہم جوئی ہے،یہ بڑی تعداد میں عوام کو جن کی قومی شناخت یوکرئین ہے یا وہ یہ زبان بولتے ہیں۔ان کومشرقی حصے کی جدوجہد سے علیحدہ کر دے گی جس کی آپسی جڑت کیف کی حکومت کے خاتمہ کی جدوجہد کو تیز کرسکتی ہے،جو یورپی یونین اور آئی ایم ایف کے کٹوتیوں کے پروگرام کے نفاذ سے تیزی سے عوام میں عدم مقبولیت کا شکار ہوجائے گی۔بہرحال ہمیں اس غلط اور خطرناک پالیسی کی کھلی مخالفت کرنی چاہیے۔لیکن یہ یوکرئین میں جاری فاشسٹ مخالف جدوجہد کے لیے،عالمی سطح پر محنت طبقہ کی طرف سے حمایت کو کسی طور کم نہیں کرتی۔
روسی زبان بولنے والوں اور خاص کرمحنت کش طبقہ کے علاقوں میں کیف کی متعصب حکومت کی طرف سے ان کی زبان اور کلچر پر حملے کا خوف،حقیقت میں قومی جبر کا خوف ہے۔اس کے علاوہ ان کو یہ ادراک بھی ہے کہ یورپی یونین کی اصلاحات اور روس سے معاشی تعلقات توڑنے کا ان کی نوکریوں اور خاندانوں پر کیا اثرات ہوں گے۔ علاقائی سطح پر خودمختیاری اور میڈان حکومت کو تسلیم نہ کرنا درست ہے۔
کریمیا کی صورتحال کے برعکس اس علاقے کے لوگوں میں یوکرئین سے علیحدگی اور روسی فیڈریشن میں شمولیت کی خواہش نہیں ہے۔لیکن وہ ایسی حکومت نہیں چاہتے،جس کا کوئی جمہوری جواز نہیں اور حکومت کی روسی بولنے والے عوام کے خلاف نفرت عیاں ہے۔فاشسٹ گرپوں کی طرف سے اوڈیسا اورMariupolمیں منظم قتلِ عام نے پولیس اور فوج میں بغاوت اوربڑی عوامی جدوجہد کو جنم دیا ہے۔Slavyansk کا محاصرہ ،کان کنی اور اسٹیل کے محنت کشوں کی طرف سے احتجاجی ہڑتال ،فاشزم مخالف جدوجہد عوامی حمایت کا پتہ دیتی ہے۔ مزاحمت عالمی سطح پر محنت کشوں اور سوشلسٹوں کی حمایت اور مدد کی مستحق ہے۔ 
امریکی اور یورپین سامراج کی مداخلت یوکرائین کے عوام اور یورپ کے محنت کشوں اورمڈل کلاس کے مفادات کے لیے خطرناک اشتعال انگیزی ہے۔یہ ان کی روسی سامراج کے خلاف مسلح گھیراو کی جارحانہ پالیسی کا عملی کا نتیجہ ہے۔
حالانکہ روس امریکہ سے ہر لحاظ سے کمزور ہے اور یورپی یونین سے معاشی طور پر،لیکن مغرب کی پالیسی نے پوٹین کو مواقع فراہم کیا ہے کہ وہ خود کو یوکرئین میں روسی زبان بولنے والوں کا محافظ بن کر سامنے آئے۔تاہم ان کے حقوق ،روس کے مفادات کے تحت ہیں،جس کا مقصد یوکرئین کو بفر ریاست کے طور پر برقرار رکھنا ہے،کیوں مغربی سامراج روس کے گرد پہلے ہی گھیرا تنگ کر چکے ہیں۔اگر مشرقی یوکرئین کے عوام نے اپنا مستقبل ان کے ہاتھ میں دئے دیا تو یہ ان کے لیے تباہ کن ہوگا۔
روس اب تک سفارتی محاذ پرمذاکرات کے ذریعے ایک عبوری حکومت کے قیام سے بحران کو کم کرنا چاہتا ہے اور یوکرائین کی سرحد کے قریب میدانی مشقیں اور فوجیوں کی نکل وحرکت،مغرب کی بڑھتی ہوئی جارحانہ پہل قدمی کا جواب ہے۔اوڈیسا کے منظم قتلِ عام اورSlavyanskمحاصرے کے باوجود،روس صرف مقامی ملیشاء کو محدود مدد فراہم کررہا ہے،براہ راست مداخلت کا خطرہ صرف اس صورت میں ہے اگر کیف حکومت مزید جارحانہ اقدامات کرتی ہے۔اس سب کے باوجود مغربی میڈیا اوبامہ،مرکل اورکیمرون کے نقطہ نظر کو پیش کررہا ہے کہ یوکرائین مغرب کے دائرہ اثر میں آنے کے لیے بے تاب ہے اور واحد رکاوٹ روس کی مداخلت ہے۔
مغرب اور شمالی امریکہ کی ’’جمہوری ‘‘حکومتوں نے کیف حکومت میں فاشسٹ عناصر کی شمولیت اور اوڈیسا میں قتلِ عام پر کچھ نہیں کہا اور وہ موجود حکومت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں،جس نے اگر مشرقی حصہ پر قابو پالیا تو اس سے بڑا قتلِ عام متوقع ہے،یہ بدلتے ہوئے معروض کا اظہار ہے جس کا آغاز2007-08میں جنم لینے والے سرمایہ دارنہ بحران سے ہوتا تھا۔ اس نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کے نام نہاد پرامن عہد کا خاتمہ کردیا ہے ،حالانکہ اس امن کے عہد میں بھی بلکان،مشرق وسطی اور سنٹرل ایشیا میں جنگ و انتشارجاری رہا تھا،یہ ایسا عہد تھا جب مغرب کیمونزم پر فتح کے پھل کھانے میں مصروف تھا۔لیکن اب سامرجی ممالک کے درمیان کشمکش اور تضادات تیز تر ہورہے ہیں۔اس وقت امریکہ،برطانیہ،یورپی یونین جرمن سربراہی میں او ر جاپان یہ سب مل کر نئے سامراجی ممالک روس اور چین کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔نیٹو فوجی دستوں کی مشرقی یورپ میں پیشقدمی کے ساتھ،وہ اپنے حریفوں کی مزاحمت روکنے کے لیے این جی اوز،جمہوری تحریکیوں اور رنگدار انقلابات کو استعمال کررہے ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف یوکرائین میں فاشزم مخالف تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مطالبہ کرتی ہے،بلکہ بڑے پیمانے پر جنگ محالف تحریک کو دوبارہ سے منظم کرنے کی ضرورت سامنے لاتی ہے،جیسے دسیوں لاکھوں لوگوں کوامریکہ کے افغانستان اور عراق پر حملے کے وقت منظم کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ اس دعوے کو بھی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے کہ یوکرائین روسی سامراج کی خاص قسم کی جکڑ میں ہے اور اس لیے کیف حکومت ان روسی زبان بولنے والے علاقوں پر جو اس کی بالادستی کو قبول نہیں کرتے حملے کا جواز رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: