عوامی ورکرز پارٹی کی پہلی کانگرس اور انقلابی پارٹی کی جدوجہد

عوامی ورکرز پارٹی کا قیام پاکستانی سیاست میں محنت کش طبقہ کی پارٹی تشکیل دینے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تھی،آج کے عہد میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب سرمایہ داری نظام کوبدترین بحران کا سامنا ہے اور سامراجی تضادات میں شدت آرہی ہے ، حکمران طبقہ پوری دنیا میں محنت کشوں پر بڑے حملے کررہا ہے اور اس کے خلاف جدوجہد جنم لے رہی ہے۔اس لیف لیٹ کا بنیادی مقصدپارٹی منشور میں سامراج وسرمایہ داری مخالفت ،ریاست اورقومی سوال پر موجود تضادات پر بحث کرنااور اس سوال کو پیش کرنا ہے کہ پاکستان میں محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی کا پروگرام کن بنیادوں پرہونا چاہیے۔اس کے ساتھ یہ کے پچھلے دوسالوں میں پارٹی کو جن اہم سوالوں کا سامنا رہا ہے اس پر درست پوزیشن نہ لینے کی وجہ کیا تھی اور کیا موجودمنشور پر محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی تعمیر کی جاسکتی ہے۔

سرمایہ داری کی مخالفت ،نجی ملکیت کے خاتمے کے بغیر

عوامی ورکرز پارٹی کا منشورسامراجیت کی مخالفت کرتاہے۔لیکن اس کے ساتھ یہ نجی سرمایہ اور ملٹی نیشنل کو بھی کام کرنے کی اجازات دیتے ہیں ۔ صنعتی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری اور ملٹی نیشنل کو اجازات دینے میں سوشلزم حل کے طور پر نظر نہیں آتا،یہاں ترقی کو سرمایہ داری سے منسلک کردیا جاتا ہے۔یہ سماجی تبدیلی کو نظریاتی طور پر توسرمایہ داری مخالفت میں دیکھتی ہے،لیکن اس کی سرمایہ داری مخالفت کا سرمایہ داری کے خاتمے ،سوشلسٹ انقلاب اور منصوبہ بند معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہے

دہشت مخالف جنگ

پارٹی کا منشوردہشت گردی کے خلاف جنگ کوسامراجی طاقتوں اور انکی گماشتہ ریاستوں کی طرف سے دنیا پر بالادستی قائم کرنے کا منصوبہ کہتی ہے اور اس کے پاکستانی ریاست اور سماج پر ہونے والے اثرات کا بھی ذکر کرتی ہے۔لیکن سامراج اورریاست کے خلاف جدوجہد کے طریقہ کار کو سامنے لانے کی بجائے اس کو حکمران طبقہ کے پرانے اور نئے بیانئے میں کشمکش تک محدود کردیتی ہے،جس نے طبقاتی جدوجہد کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔معیشت پسندی اور لبرل ازم میں ان کے لیے سامراج یا ریاست کے خلاف جدوجہد سے زیادہ،رجعت کے خلاف جنگ اور آپریشن اہم ہوتے ہیں اور یہ سامراج اور ریاست کے ساتھ کھڑئے ہوجاتے ہیں۔یوں مظلوم پختونوں پرریاست کے آپریشن کی حامی بن جاتے ہیں۔

ریاست اور سماجی تبدیلی:

ریاست کا سوال انقلابی نظریہ اور جدوجہد میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ ہی انقلابی جماعت کو اصلاح پسندی سے علیحدہ کرتا ہے۔ عوامی ورکرزپارٹی کا پروگرام ریاست کے نوآبادیاتی کردار پر بات کرتا ہے کہ ’’اس ریاست نے اپنے عوام کو سامراجی یلغار اوراور نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے‘‘ پروگرام مزید کہتا ہے کہ’’فوجی وسول افسر شاہی اور بالادست طبقات نے مضبوط مرکز ،نام نہاد قومی سلامتی اور اسلام کے تحفظ کے نام پر ایک ہیبت ناک اشرافیائی ریاست بنا رکھا ہے،جہاں ایجنسیاں راج کرتی ہیں‘‘یہ ایک درست نشاندہی ہے اور اس کے ساتھ’’ عالمی سرمایہ داری کی جگہ جمہوری اور سوشلسٹ نظام کے قیام‘‘کو منزل قرار دینادرست ہے۔پروگرام کے ابتدائیہ میں عمومی طور ریاست،سامراج اور عوام کے تعلق کی وضاحت کی گی ہے اور یہ اہم جمہوری مطالبات کو بھی سامنے لاتا ہے،جو مزدور تحریک کی جدوجہد میں اہم ہے۔یہ وضاحت بھی کرتاہے کہ یہ کس طبقہ کی نمائندہ ہے اور سوشلزم کو حل کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔لیکن سوشلزم کی جدوجہد کو اس ریاست کے خاتمے سے وابستہ نہیں کرتا اوراس کااظہار ’’ہماراپروگرام‘‘میں واضح ہوجاتا ہے۔جہاں ریاست کے حوالے سے پروگرام سرمایہ داری کی حدود سے باہر نہیں جاتا، ریاست کا سوال مجرد سوال نہیں ہے،بلکہ اس کی اہمیت روزانہ کی جدوجہد میں بہت واضح ہوکر سامنے آتی ہے،جیسے عوامی ورکرز پارٹی کی قیادت نظام کے بحران اور حکمران طبقہ کے ٹکراؤ کی صورتحال میں جدوجہد کا تناظر سامنے لانے کی بجائے جمہوریت کے نام پر نواز حکومت کی حمایت میں آجاتی ہے ۔اسی طرح ڈاکٹر مالک کے وزیراعلی منتخب ہونے کو مثبت پیش رفت قرار دیاجاتا۔یہ مواقف ریاست اورلبرل ڈیموکریسی میں حل دیکھتا ہے۔

قومی سوال:

پارٹی منشور قومی تضاد کو بنیادی تضاد اور پاکستان کو کثیرالقومی ریاست تو تسلیم کرتا ہے،اور قومی جبر کی مخالفت بھی کرتا ہے۔اس کے علاوہ حق خوداردیت اور علیحدگی کے حق کو نظریاتی طور پر تسلیم کرتا ہے۔لیکن عملی طور پچھلے دوسالوں میں اس کی سیاست موجود ریاستی ڈھانچے کے دفاع میں سامنے آتی ہے۔بلوچ تحریک پر اس کا مواقف ڈاکٹر مالک کی حمایت میں جاتا ہے اور یہ وہاں کی تحریک کے مطالبات کے ساتھ جڑنے کی بجائے حکومت کی حمایت میں سامنے آتے ہیں۔لحاظ ہم دیکھتے ہیں جدوجہد کے بنیادی نعرے حق خوداردیت اور علیحدگی کے نعرے کو تسلیم کرنا تو دور کی بات یہ اس بلوچ لانگ مارچ پر بھی تضادات کا شکار ہوجاتے ہیں جو گمشدہ سیاسی کارکنان کے لیے تھا،پنجاب میں مرکزی لیڈر شپ نے اس میں شرکت سے ہی انکار کردیاتھا۔جہاں ایک طرف پارٹی کی لیڈرشپ نے دہشت مخالف جنگ کی حمایت کی اس کے ساتھ ہی پختونوں مہاجرین کی سندھ میں آمد کی سندھ پارٹی نے مخالفت اور اس کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔یہ پارٹی کو ایک سوشلسٹ پارٹی کی بجائے قوم پرستی کی طرف لے جاتی ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی کا پروگرام کس بنیادپر ہو:

عوامی ورکرزپارٹی کا پروگرام دو حصوں میں تقسیم ہے،کم ازکم پروگرام جو سرمایہ دارنہ نظام میں ممکناََ حد تک اصلاحات کی بات کرتا ہے اور ’’زیادہ سے زیادہ‘‘ پروگرام جس کا مقصد سرمایہ داری کے مقابلے میں مستقبل دورمیں سوشلسٹ نظام اوران دو پروگراموں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے،یوں یہ پروگرام سوشلزم کو حتمی منزل قرار دے کر ایک طرف رکھ دیتا ہے۔جب کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پارٹی کو واضح لائحہ عمل پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ کیسے محنت کشوں اور مظلوم اقوام و پرتوں کی جدوجہد کو سرمایہ داری نظام کے خاتمے کی جدوجہد منسلک کیا جاسکتا ہے۔کیسے ہم منصوبہ بندہ معیشت محنت کش طبقہ کے جمہوری کنٹرول میں قائم کرسکتے ہیں،جو ہمیں سرمایہ داری کے استحصال اور جبر سے نجات دلائے۔ہمیں سرمایہ داری مخالف اور سوشلسٹ کی انقلاب پارٹی کو تعمیر کرنا ہوگا۔عوامی ورکرز پارٹی اس کی طرف پہلا قدم بن سکتی ہے۔جو الیکشن میں حصہ لے اور اس کو جیتنے کی کوشش بھی کرے لیکن اس کا بنیادی مقصد سوشلسٹ انقلاب کی پارٹی کی تعمیر ہو۔ہمیں ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو سامراج ،سرمایہ داری،جنگ،دہشت گردی،نسل پرستی،خواتین کی آزادی،ماحولیاتی تباہی کے خلاف،سوشلزم،انٹرنیشنل ازم اور منصوبہ بند معیشت کے لیے جو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کے لیے جدوجہد منظم کرئے۔

       محنت کش طبقہ کی پارٹی کیسی ہو:

عوامی ورکرز پارٹی اپنے قیام سے مختلف بحرانوں کا سامنا کررہی ہے،طبقاتی جدوجہد کا کوئی بھی سنجیدہ سوال اس کو بکھیر دیتاہے(جیسے بلوچ جدوجہد یا وزیرستان پر فوجی آپریشن)۔ان حالات میںیہ ضروری ہے کہ پارٹی کے پروگرام میں ریاست،سامراج ،ترقی،جمہوریت اور انقلاب کے کرادر پر تفصیلی بحث ہو ۔چونکہ پارٹی میں اس پر مختلف نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔بعض اوقات تو ان کے تضادات کی نوعیت اتنی شدید ہے کہ ان کی موجودگی میں ایک پارٹی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور جن پراتفاق کے بغیر ایک ہم آہنگ اورجدوجہد کی حامل پارٹی کا قیام ممکن نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ معاملات کو لیڈرشپ کی سطح پرحل کرنے کی بجائے، پاکستان میں سماجی تبدیلی کی جدوجہد کے اہم سوالات کوجمہوری انداز میں پارٹی کے ہر ادارے میں زیربحث لیا جائے۔اس میں پارٹی سے باہر دیگر گروپس کے ساتھیوں کو شامل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ہمیں چھوٹے چھوٹے اختلافات اور اسمبلی کی ایک دو نشست کی سیاست سے باہر آنے کی ضرورت ہے ۔یہ دیکھنے ہوگا کہ پاکستان میں آج محنت کش طبقہ کی سیاست کیسے منظم کی جائے اور آج وہ کیا تبدیلیاں آئیں ہیں جس میں ہم عوام سے جڑا نہیں پارہے،کہاں غلطی ہے اور آج کے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں کیسے انقلابی سیاست تعمیر کرسکتے ہیں ۔موجود کانگرس کسی جمہوری بحث کی بجائے مختلف گرپوں کے درمیان ایک ’’سمجھوتے‘‘ کا نتیجہ ہے اور اسی لیے کہا جارہا ہے کہ منشور اور آئین پر کوئی بات نہ کی جائے اور لیڈر شپ کو پہلے سے منتخب کرلیا گیا ہے۔ یوں یہ تضادات کو حل کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافہ کا باعث بنے گی۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ کانگرس میں جمہوری بحث ہو اور سب ڈیلگیٹس اور ممبران کو برابر حق دیا جائے کہ وہ اپنا نقطہ نظر بیان کرسکیں،خاصکر جو پارٹی کے منشور ودستور اور مرکزی لیڈر شپ پر تنقید رکھتے ہوں۔پارٹی میں الیکشن کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ فیڈرل کمیٹی کے پاس یہ حق ہے کہ وہ نئی سلیٹ پیش کرئے لیکن یہ کم ازکم دوماہ پہلے پیش کی جائے۔اس پر پارٹی میں ہر سطح پر بحث ہو جس پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہ کی جائے اور اگر پارٹی ممبران نئی سلیٹ ،لیڈر شپ یا منشور پیش کرنا چاہیں تو ان کو اس کا بھرپور موقع ملنا چاہے اس سے پارٹی کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہوگی جب ممبران کو یہ یقین ہوگا کہ فیصلے ان کی مرضی کے مطابق ہوں گے۔اس کے علاوہ مرکزی لیڈرشپ کو فیڈرل کمیٹی کی بجائے کانگرس کو براہ راست منتخب کرنا چاہے۔پارٹی میں اختلافی نقطہ نظر رکھنے والوں کو فیکشن بنانے اپنا مواقف بیان کرنے اورمیٹنگ کا حق ہونا چاہیے ،یوں ہی جمہوری انداز میں پارٹی آگے بڑھ سکتی ہے کہنے کامطلب ہے کہ ان جمہوری آزادیوں اور اہم موضوعات پر بحث ہی محنت کش طبقہ کی پارٹی کی تعمیر کے لیے ضروری ہیں۔یوں ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ مختلف رجحانات کے درمیان تضادات پر فکری مباحث نہ صرف ممبران کی نظریاتی سمجھ بوجھ میں اضافہ کاباعث بنائیں،بلکہ نظریات میں جمود کی بجائے ان میں ارتقاء اور فکری بالغ نظری پید ہوگی

۔لیفٹ اپوزیشن عوامی ورکرز پارٹی اگر آپ اس تنقیدسے متفق ہیں،تو آئیے ملکر کانگرس اورپارٹی میں ان پر جدوجہد کریں یوں ہی ہم انقلابی پارٹی کی تعمیر کی جانب آگے بڑھ سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: