سرمایہ دارنہ جمہوریت میں آزدیوں پر حملہ

جمہوریت کی فتح:
مئی2013میں انتخابات اورپیپلزپارٹی سے نواز لیگ کو اقتدار کی منتقلی کو جمہوریت کی فتح قرار دیا گیا۔میڈیا اور حکمران طبقہ کے دانشور پیپلزپاٹی کے پانچ سالہ اقتدار میں تمام تر ”مشکلات“اور کرپشن کے باوجود اسکی تکمیل کو جمہوری روایات کی پختگی بتا رہے تھے۔ان کے مطابق آج کے عالمی حالات میں اب جمہوریت کے تحت ہی نظام اقتدار چلے گا اور آمریت کی کوئی گنجایش نہیں اور ہمارے فوجی جرنیل بہت جمہوریت پسند ہیں اور وہ نظام کو برقرار رکھناچاہتے ہیں۔
نواز حکومت اور گڈگورنس :
نواز شریف کی نیولبرل حکومت کو اپنے قیام کے ساتھ ہی الیکشن میں دھندلی کے حوالے سے احتجاج کا سامنا رہا،لیکن یہ کوئی بڑی تحریک نہ بن پائی کیونکہ حکمران طبقہ میں نواز شریف کی حکومت کے حوالے سے امیدیں تھیں کہ زرادی کی کرپٹ اوربدانتظامی پر مبنی حکومت سے چھٹکار مل گیا ہے اور میٹرو بس کے ذریعے نواز لیگ یہ باور کرورہی تھی کہ وہ ایک گڈگورنس قائم کرئے گی جس میں ملکی معیشت ترقی کرئے گی۔یہ بجلی کا مسئلہ کو چند ماہ میں ہی حل کردیں گئیں ،طالبان سے مذاکرات کے ذریعے ملک میں امن اور انڈیا سے اچھے تعلقات قائم کیے جائیں گئیں۔تاکہ سرمایہ کے منافع میں اضافہ ہو اور یوں ملک میں استحکام اور ترقی کے ساتھ جمہوریت مستحکم ہو۔
اس لیے اقتدار پر براجمان ہوتے ہوئی آئی پی یز ا480ارب روپے ادا کئے گے تاکہ سرکلر ڈیٹ سے چھٹکار ملے سے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوسکے لیکن یہ اربوں روپے دینے کے باوجود آج سرکلر ڈیٹ اپنی جگہ موجو د ہے بلکہ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ بھی حل سے دور ہے،دوسری طرف انڈیاسے بہتر تعلقات اور طالبان سے مذاکرات کے ذریعے امن کا خواب بھی مکمل نہ ہو سکا،اس کے ساتھ پاکستان میں سولین بالادستی کی خواہش ایک بدترین خواب ثابت ہوئی۔نواز حکومت نے اپنے آغاز سے ہی سبسڈیز میں کٹوتیوں،نجکاری اور سرمایہ داروں کو ٹیکس میں چھوٹ دئے کر محنت کش عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ۔
دھرنے اور حکومت:
اس صورتحال نے حکومت کے خلاف الیکشنوں میںدھندلی کے خلاف احتجاجی سیاست کوفروغ دیااور یہ دھرنوں کی صورت میں اسلام آباد میں پوری شدت سے سامنے آئی۔احتجاجی تحریک اور دھرنے حکومت کا خاتمہ تو نہیں کر سکے البتہ اس نے اقتدار پر اس کی گرفت کو کافی حد تک کمزور کردیا۔
جس نے ایک خلاءپیدا کردیاجس میں آرمی پبلک سکول پر حملے اور آپریشن ضرب عضب میں شدت آنے کے بعد جرنیل راحیل شریف ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔میڈیا نے ان کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کیا جو اس ملک کو نہ صرف طالبان بلکہ کرپٹ سیاست دانوں سے نجات دالا سکتے ہیں ۔یوں راحیل شریف ایک ایسا ہیرو بن جاتا ہے جو پاکستان کو بہتر اور رہنے کے قابل ملک بناسکتا ہے،اس سے وہ ملک میں اقتدار کا حقیقی
وارث بن کر ابھرتا ہے اور اختیارت کا سرچشمہ نظرآتا ہے۔اس صورتحال کو نواز کی حکومت اور سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت کے خلاف سوفٹ کوبھی قرار دیا جارہا ہے۔
مڈل کلاس:
مڈل کلاس اس وقت فوج کی حامی بن گی ہے وہ یہ دیکھ رہے ہیں فوج نہ صرف طالبان کو لگام ڈال سکتی ہے،بلکہ کرپشن اور طاقت کے ناجائز استعمال کا خاتمہ کرکے ان کے آگے بڑھنے کا راستہ ہموار کرسکتی ہے۔اس لیے یہ ترقی کے نام پر بلوچستان میں بھی قومی آزادی کی مانگ کو کچلنے کی بھی حمایت کرتے ہیںاور کراچی میں بھی آپریشن کے حامی ہیں۔یوں وہ دیکھتے ہیں کہ یہی واحد آپشن ہے،اس کا اظہار ہر جگہ فوج کی حمایت میں ریلیوں اور راحیل شریف کی تصویر میں نظر آتا ہے،اسی لیے عمران خان نہ صرف فوج کا حامی ہے بلکہ وہ خیبر پختوان خواہ میں بھی ایسے ہی آپریشن کا مطالبہ کرتا نظرآتا ہے۔یوں یہ مڈل کلاس جہاں اقتدار میں حصہ کو دیکھتی ہے اس کے لیے یہ ہر قسم کی مزاحمت کے خلاف فوج کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور انہیں اب امریکہ کی جنگ اور ڈروان حملوں سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
حکمران طبقہ کا اتحاد:
ریاستی آپریشنوں میںوسعت سے یہ پروپیگنڈابھی عروج پر پہنچ گیا کہ ساری قوم ایک ہے کہ اصل بات تو یہ ہے کہ اس سے حکمران طبقہ کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنے خلاف ہر قسم کی مزاحمت کو کچل رہا ہے۔
نیولبرل پالیسیوں اور آپریشنز سے جہاں حکمران طبقہ کی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے تو دوسری طرف اس میں تضادات بھی جنم لیتے ہیں۔ان حالات میں جہاں حکمران طبقہ کے اعتماد میںاضافہ ہوا ،اس سے سرمایہ دار اور ملٹی نیشنل کمپنیاں خوش ہیںکیونکہ حکومت نے انہیں کارپوریٹ ٹیکسوں میں بہت چھوٹ دی ہے جس سے ان کی شرح منافع بڑھ گئی ہے۔ معیشت کے باقی شعبوں کی طرح بینکوں کے منافع میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔ سٹیٹ بینک کی 23 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، ”مضبوط سودی اور غیر سودی آمدن کی بنیاد پر، دوسری سہ ماہی کے دوران بینکاری کے شعبے کے منافع میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ اس عرصے میں بینکاری کے شعبے میں قبل از ٹیکس منافع 171 ارب روپے رہا۔ اگرچہ 2015کے دوران پالیسی ریٹس میں کمی بینکوں کی سودی آمدن پر اثر انداز ہو گی تاہم پالیسی ریٹس میں کمی سے قبل حاصل کیے گئے طویل مدت کے بانڈز کے وسیع زخائر او ر اے ایف ایس (AFS) نوعیت کی ایسی سکیورٹیز پر حاصل ہونے والے کیپیٹل گینز شرح منافع کو برقرار رکھیں گے“۔لیکن اس کے ساتھ جب تاجروں اوردکانداروں پر ودہولڈنگ ٹیکس لگایا تو اس کے خلاف تاجروں نے احتجاج اور بازار بند کردئے یہ حکومت کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔سندھ میں رینجرز کے اختیارات پرپیپلزپارٹی اور سرکاری اداروں میں بڑی بے چینی پائی جاتی ہے۔سرمایہ دار کمپنیاں کے منافعوں میں بڑے اضافہ ہواہے اور حکومت کو سرمایہ کے منافع میں اضافہ پر آئی ایم ایف سے مبارک مل رہی ہے جو اسے معیشت میں بہتری کا نام دے رہی ہے۔
مزدور تحریک :
لیکن نجکاری کے حکومتی پروگرام کے خلاف واپڈا کے محنت کش احتجاج پر ہیں اور اس کے ساتھ اسپتالوں کی نجکار ی کے خلاف بھی ڈاکٹرز،نرسز،پیرامیڈیکل سٹاف احتجاج کرہا ہے۔یہ احتجاج حکمران طبقہ کی پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
جمہوری آزادیوں پر حملہ:
تمام تر ریاستی جبر کے باوجود ابھی تک ریاست مکمل کامیابی حاصل نہیں کرپائی۔فوج کے حکومتی کاموں اور ادروں کے اختیارات میں مداخلت کے خلاف اراکین اسمبلی کے ساتھ سول بیورکریسی میں بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔جن کے اختیارت محدود ہوگے ہیں اس کے خلاف ردعمل بھی مختلف انداز میں سامنے آرہا ہے۔دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے ثابت کہ ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے،حالانکہ فوجی آپریشن پوری طاقت سے جاری ہے اور جمہوری آزادیوی کے خلاف بدترین قوانین منظور کیے جاچکے ہیں یہ صورتحال مزید جبراور جمہوری آزادیوں پر قداغنوں کا باعث بن سکتی ہے۔ان حالات میں سب سے اہم یہ ہے کہ جہاں نجکاری کے خلاف،مزدوروں اور کسانوں کے مطالبات کے گرد تحریک تعمیر کی جائے وہاںاس تحریک کو جمہو ری آزادیوں سے منسلک کرتے ہوئے متحدہ محاذ تشکیل دیا جائے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: