Archive for March, 2016

March 31, 2016

حکمران طبقہ کے بڑھتے ہوئے تضادات،دہشت گردی اورآپریشن

لاہور کے پارک میں ہونے والے خودکش حملے میں 74افراد ہلاک اور 370 سے زائد زخمی،اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی (جس میں ایسٹر کی خوشی منانے والی کرسچن آبادی کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی)جو چھٹی کے دن پر فرصت کے لمحے گزارنے اور بچوں کی خواہش یا خوشی کے لیے پارک میں آئے تھے۔جو زندہ بچ گے یہ اپنے ساتھ ساری عمر کا غم اور دکھ لے کرگے۔ بچے اور خواتین جو جھولا جھول یا آئس کریم سے لطف انداوز ہورہے تھے ، خودکش دھماکے نے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کردیا۔
گلشن اقبال پارک ایک لوئیر مڈل کلاس علاقے میں قائم ہے جہاں بڑی تعداد مڈل کلاس ،محنت کش اور غریب لوگ اپنے بچوں سے ساتھ آتے تھے کیونکہ یہ پارک ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں یہ اپنے بچوں کے ساتھ خوشی کے چند لمحات گزار سکتے تھے۔اس خودکش حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ،یہ دھماکہ اورایسے دیگر واقعات ان کی انتہائی رجعتی نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایک طرف جہاں حکمران طبقہ کی طرف سے مذمتوں اور گہرے دکھ کا اظہار کیا جارہا ہے وہاں اس المناک واقعہ پر ایک دفعہ پھر شدت کے ساتھ آپریشن ،جنگی جنون اور سیکیورٹی کے مطالبات میں اضافہ کا طوفان سامنے آیا کہ مزید آپریشن ہی امن لاسکتا ہے ۔حالانکہ پچھلی ایک دہائی کا تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ سامراج کی یہ جنگ جس قدر پھیلتی ہے اس قدر تباہی اور بربادی لے کرآتی ہے۔ہر آپریشن کا آغاز’’امن‘‘ کے لیے ہوتا ہے ۔لیکن اس کے نتیجے میں ریاست اپنی بالادستی بحال کروانے کے لیے بڑے پیمانے پرتباہی پھیلاتی ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام لوگ بے گھر ہوتے ہیں اور انہیں نسل پرستی اور قید و بند کا سامنا کرنا پڑتاہے۔اس کے ساتھ پچھلے چند سالوں میں حکومت نے بڑے پیمانے پر ایسے قوانین اور اقدامات کیے ہیں،جو شہری آزادیوں پر بڑا حملہ ہے،جیسے ملٹری کورٹس کا قیام،میڈیا اور شہریوں پر اظہار رائے کی پابندیاں،سکیورٹی اداروں کو ورنٹ کے بغیر گرفتاری کا اختیار،فون ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاکی نگرانی کے ذریعے عام لوگوں کے خیالات پر کنٹرول ،لیکن اس سب کے باوجود دہشت گردی میں خاتمہ کی بجائے مزید اضافہ ہوا ہے اور یہ قوانین محنت کشوں اور مظلوموں کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔
ؒ یہ صورتحال خیبر پختوان خواہ سے بڑھا کر کراچی،سندھ،بلوچستان اور اب پنجاب میں آگئی ہے،ان تمام آپریشنوں اور جبر کے باوجود دہشت گردی میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اس واقعہ کے فورا بعد جس طرح پنجاب میں آپریشن شروع ہوا۔یہ حکمران طبقہ اور ریاست میں بڑھتے ہوئے تضادات کو ظاہر کررہا ہے۔فوج پہلے ہی کراچی ،اندارن سندھ،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں آپریشن کررہی تھی اوراب اس نے اپنے دائرہ اختیار کو پنجاب میں بھی بڑھا لیا ہے۔جبکہ خارجہ پالیسی پر بھی پہلے سے ہی ان کا اختیار تھا۔احمد رشید کے مطابق نواز شریف فوج کی جانب سے صوبے میں آپریشن کے خلاف ہیں لیکن اس خودکش حملے کی وجہ سے فوج نے یہ آپریشن شروع کردیا ہے اور یہ صورتحال ملک میں فوجی اقتدار کے امکانات کو بڑھا رہی ہے،جبکہ حامد میر کے مطابق فوج یہ سمجھتی ہے کہ جنوبی پنجاب میں مذہبی اور بلوچ عسکریت پسند موجود ہیں جن کے خلاف آپریشن ضروری ہے ۔یہ ساری صورتحال پاکستان میں حکمران طبقہ میں تضادات کو گہرا اور ایک ٹکراو کی کفیت کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
سامراجی جنگ اور آپریشنز مزید رجعت اور وحشت کو جنم دیتے ہیں اور یہی سب کچھ مشرق وسطی کی صورتحال سے واضح ہے اور پاکستان میں بھی ایک دہائی سے زائد آپریشنز یہ واضح کررہے ہیں۔ان حالات میں جہاں حکمران طبقہ کی پالیسیاں ناکام ہیں وہاں لبرل اور لیفٹ لبرل کی اس ریاست سے امید کہ یہ طالبان کا خاتمہ کرکے ایک سیکولر اور لبرل ریاست قائم کرسکتے ہیں،حقیقت میں ایک سراب کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور سرمایہ داری نظام اور سامراجیت سے امید وابستہ کرنے کے مترداف ہے۔جب کہ حقیقت میں آج کے عہد میں جنگ مخالف تحریک ہی حقیقت میں طالبان کی دہشت گردی کے راستے میں عوامی مزاحمت تعمیر کرسکتی ہے،جو اپنی بنیاد میں سامراج اور سرمایہ دارنہ ریاست کے خلاف ہو۔

read more »

March 6, 2016

انڈیا میں محنت کشوں کی عام ہڑتال

تحریر:شیراز احمد
ہندوستان میں دس بڑی ٹریڈ یونینزفیڈریشنز کی اپیل پر کی جانے والی عام ہڑتال اس خطے کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال تھی۔ ٹریڈ یونین راہنما اس ہڑتال میں دس کروڑ محنت کشوں کی شمولیت کی امید کررہے تھے لیکن 2ستمبر کو پندرہ کروڑ محنت کشوںنے ہندوستان کو ایک دن کے لیے مکمل جام کر دیا یہ خود ٹریڈیونین لیڈرشپ اور بایاں بازو کے لیے حیران کن تھی۔ محنت کشوں کی ہڑتال مودی سرکار کی رداصلاحا ت کے خلاف تھی۔مودی سرکار نے نیولبرل ایجنڈے پرتیزی سے عملدرآمد شروع کردیا تھا،وہ سماجی پروگراموں میں سرمایہ کاری کو کم کررہاہے اور اس کے ساتھ غریبوں اورمحنت کشوں کو ملنے والی مراعات میں کٹوتیوں کے علاوہ سرکاری محکموں جیسے ریلوے،پورٹ،کولا مائینز،ائیرپورٹ اور شہر ی بس سروس کے بجٹ میں کٹوتیاں کررہا ہے۔ وہ جلد از جلد ایسے قوانین بنائے کی کوشش کررہاہے،جس سے ٹریڈ یونین کمزور یا بالکل ختم ہو جائیں اور ہندوستان کے محنت کشوں کا استحصال کرنا مزیدآسان ہو جائے تا کہ سرمایہ داروں کے منافع میں مزید اضافہ ہوسکے۔راجستان میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں مودی کے حکم پر ریاستی حکومت سکولوں اور صحت کی سہولیات کی نجکاری کرہی ہے۔
دس ٹریڈیونین فیڈریشنز نے اس ہڑتال کی اپیل کی تھی،جن میں آل انڈین ٹریڈ یونین فیڈریشن اورسنٹر آف انڈین ٹریڈیونینز بھی شامل تھیں جن کا تعلق کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا اور کیمونسٹ پارٹی انڈیا مارکسسٹ سے ہے۔اس کے علاوہ نیشنل ٹریدیونین فیڈریشن آف انڈیا نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی جو کانگرس سے منسلک تھی،اس فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ سونیا گاندھی نے اس ہڑتال میں شمولیت کی حمایت کی ہے۔
بھارتیہ مزدور سنگھ جو بی جے پی سے منسلک فیڈریشن ہے ابتداءمیں اس نے بھی رداصلاحات کے خلاف ہڑتال کی حمایت کی،لیکن بعدازں اس نے ہڑتال میں شرکت سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ حکومت نے یونینز کے اہم مطالبات تسلیم کرلیے ہیں۔
وزیر خزانہ ارن جیٹلے کی قیادت میں ایک وفد نے ٹریڈیونین لیڈر شپ سے 26اور27اگست کو ملاقات کی جس میں انہوں نے ٹریڈیونین لیڈرشپ سے ہڑتال کو ختم کرنے کہاجس کے حوالے سے بے کار وعدے بھی کیے ۔لیکن ٹریڈیونینز نے انہیں ماننے سے انکار کردیا۔2ستمبرنے ایک نئی تاریخ رقم کی اور مزدور طبقہ کی سرمایہ داری نظام میں بنیادی حیثیت کوسامنے لایا۔جس کی وجہ سے بورژوا ٹی وی چینلوں اور اخبارات کو ہڑتال کی شاندار کامیابی کو تسلیم کرنا پڑا۔ ہندوستان کے ایک اہم اخبار دی ہندوکے مطابق ،”دس اہم ٹریڈ یونینوں کی جانب سے لیبرقوانین میں تبدیلیوں اور سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ہڑتال سے ملک کے بہت سے حصوں میں کاروبار زندگی متاثر ہوا،جن میں مغربی بنگال،تری پورہ،کیرالا اور کرناٹکا شامل ہیں۔ہڑتال کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ٹرانسپورٹ، بینک اور دوسری صنعتیں شدید متاثر ہوئیں۔“ عام ہڑتال کر رہے ہیں۔ان کے مطابق مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کی ”کاروبار دوست“ پالیسیوں کے باعث ان کاروزگار خطرے میں ہے اور عام لوگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔یونینوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سرکاری اداروں کی نجکاری اور لیبر قوانین میں تبدیلی نہ کرے۔رپورٹوں کے مطابق تقریباً پندرہ کروڑ محنت کش جن میں بینک، مینوفیکچرنگ، تعمیرات اور کوئلے کی صنعت کے مزدور بھی شامل ہیں اور دس بڑی یونینوں سے تعلق رکھتے ہیں بدھ کے روز کام پر نہیں آئے۔ہڑتال سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور دارالحکومت دہلی سمیت بہت سے شہروں میں بس اڈوں پر مسافروں کی لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔“
این ڈی ٹی وی کے مطابق، ”تقریباً پندرہ کروڑ افراد ملک گیر ہڑتال پر ہیں اور بینکوں اور ٹرانسپورٹ جیسی اہم سروس ملک کے مختلف حصوں میں بند ہیں۔ کولکتہ میں بائیں بازو کی خواتین کارکنوں کو پولیس سڑک پر گھسیٹ رہی ہے۔بینک، دکانیں اور بہت سے تعلیمی ادارے بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر موجود نہیں۔اس بھارت بندھ سے جنوبی ریاستیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ 3500 کے قریب سرکاری بسیں حیدرآباد دکن میں کھڑی ہیں جبکہ کیرالا کے شہر تھری ونانتھاپورم میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ رکی رہی ہے۔بنگلور میں سکول اور کالج بند ہیں۔ وزیر خزانہ ارن جیٹلے سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دس بڑی ٹریڈ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال دی۔بہت سے بینکوں نے پورے ملک میں سارا دن اپنے دروازے بند رکھے۔“
ٹریڈیونین کی جانب سے پیش کیے گے بار ہ نکات میں مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کامطالبہ بھی شامل تھا جبکہ دیگر مطالبات میں لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد،لیبر قوانین میں مجوزہ مزدور دشمن ترامیم کا خاتمہ اور سرکاری اداروں کی نجکاری کے منصوبوں کا خاتمہ شامل تھے۔یونینوں کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ تمام محنت کشوں کو جس میں غیر رسمی شعبے کے محنت کش بھی شامل ہیں ،سوشل سکیورٹی اور کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے۔بینکوں کی یونینز بھی حکومت کی بینکوں کی نجکاری کی پالیسی کی خلاف ہڑتال میں شامل تھیں۔غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو منظم کرنے والی بہت سی ٹریڈیونینزبھی ہڑتال کی حمایت کر رہی تھیں۔
لیکن اس ہڑتال کا بنیادی نقطہ محنت کشوں کا حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بڑھتا ہوا غصہ تھا۔پچھلے پانچ سالوں میں ہندوستان کی سطح پر2010,2012,2013میں عام ہڑتالیں ہوئیں ہیں جس میں کڑور ہا محنت کش شریک ہوئے۔اس ہڑتال میں پندرہ کروڑ افراد کی شرکت محنت کشوں میںنیولبرل پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کا عظم واضح کررہی تھی۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ)نے کہا،”ہڑتال کامیاب تھی، اس کے باوجود کہ مرکز نے آخری وقت پر محنت کشوں کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی“۔ CPIکے جنرل سیکرٹری ایس سدھاکر ریڈی نے کہا کہ ،” یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور توقع سے بڑھ کرکامیابی ۔یہ محنت کش طبقے کا تاریخی کارنامہ ہے اور حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف ان کی طاقت کا اظہار ہے“۔ ٹریڈ یونین آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس(AITUC) کے جنرل سیکرٹری گروداس داسگپتانے اس تحریک کو ”شاندار“ قراردیا۔
مودی کے جیت کی وجہ جہاں کانگریس کی ناکام حکومت تھی اس کے ساتھ کمیونسٹ پارٹیوں کی سرمایہ دارنہ نظام کی بالادستی کی قبولیت ایک بڑی وجہ تھی۔دس سال تک نیولبرل پالیسیوں کے تحت سرمایہ داروں کو نوازنے کے نتیجے میں گزشتہ سال کے انتخابات میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کمیونسٹ پارٹیاں جنہیں 2005ءکے انتخابات میں بڑی حمایت ملی اور لوک سبھا میں 64 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئیں وہ بھی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کی بجائے سیکولرازم کے دفاع کے نام پرکانگریس کی مخلوط حکومت کا حصہ بن گئیں۔ سرمایہ دارنہ ترقی کے لیے جس نوعیت کے مزدور دشمن اقدامات کئے اس کے نتیجے میں انہیں گزشتہ سال انتخابات میں بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔اس شکست کی بنیادی وجہ کیمونسٹ پارٹی کی حکومت نے نیولبرل پروگرام کے نام پر رداصلاحات پر عملدآمد شروع کردیا۔جس پر دیگر سرمایہ دارنہ پارٹیاں عمل پیرا تھیں۔
یہ ہڑتال ہندوستان میں طبقاتی جدوجہد کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اتنی بڑی کامیابی اس وقت سامنے آئی جب کوئی اس کی امید نہیں کررہا تھا،لیکن پھر یہ صرف ہندوستان میں ہی نہیں ہورہا بلکہ دنیا بھر میں سرمایہ دارنہ نظام کے بحران کو محنت کشوں پر ڈالنے کے خلاف ردعمل سیاسی شکل میں سامنے آرہا ہے۔نیولبرل سرمایہ داری ہندوستان میں ترقی لے کر آئی ہے۔لیکن اس سے مستفید جہاںایک طرف بڑا سرمایہ ہوا ہے اور ان کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے بہت سے عالمی سطح پر بڑے سرمایہ داروں میں شامل ہوگے ہیں،اس کے ساتھ10سے15فیصداپر مڈل کلاس ہی اس سے فائدہ اٹھا سکی ہے۔لیکن اس کی قیمت ہندوستان کے کے غریب ،کسان اور محنت کش ادا کررہے ہیں۔یہ واضح ہے کہ کیسے آج سرمایہ داری میں ہموار اور یکساں ترقی ممکن نہیں،حالانکہ ہندوستان کو سرمایہ داری اور جمہوریت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جن کے لیے غربت ،بےروزگاری،ذلت اور محرومی میں اضافہ ہوا ہے۔جس نے ایک طاقتور مزدور تحریک کو جنم دیا ہے اور اس سے طبقاتی کشمکش مزید شدت اختیار کرئے گی۔یہ ہڑ تال اس سوال کو سامنے لائی ہے کہ طاقت کے حقیقی مرکز کہاں ہے۔لیکن اس کامیاب ہڑتال کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کے حملوں میں کمی نہیں آئے گی اور نہ ہی محنت کشوں کی صعوبتوں میں کمی آئے گی۔مذاکرات تکلیف دہ حد تک طوالت اختیار کر سکتے ہیں اور کئی ماہ تک بے نتیجہ جاری رہیں گے۔حکمران طبقات کوشش کریں گے کہ محنت کش طبقے کی انقلابی صلاحیت کو زائل کیا جائے اور ان کو مایوس کیا جائے۔اس وقت اشد ضرورت ہے کہ اس انقلابی صلاحیت کو سیاسی رنگ دیا جائے۔یہ حالات محنت کش طبقہ کی پارٹی اور انقلابی پروگرام کے سوال کو شدت سے سامنے لاتے ہیں۔

March 2, 2016

دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

تحریر:راضوان علی
ستمبر18 کوپشاور میں ایئربیس پرطالبان نے حملہ کیا،جب ہر طرف فوجی آپریشن کی کامیابی پرشادیانے بجائے جارہے تھے۔2014کے آخری دنوں میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردی کے بعد آپریشن میں تیزی لائی گی۔
آپریشن ضرب غضب کو ایک کامیابی بتایا جارہا ہے اور کہا جارہاتھا کہ طالبان کا صفایا کردیا گیااور اب اس آپریشن کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کا خاتمہ کیا

read more »