دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

تحریر:راضوان علی
ستمبر18 کوپشاور میں ایئربیس پرطالبان نے حملہ کیا،جب ہر طرف فوجی آپریشن کی کامیابی پرشادیانے بجائے جارہے تھے۔2014کے آخری دنوں میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردی کے بعد آپریشن میں تیزی لائی گی۔
آپریشن ضرب غضب کو ایک کامیابی بتایا جارہا ہے اور کہا جارہاتھا کہ طالبان کا صفایا کردیا گیااور اب اس آپریشن کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کا خاتمہ کیا جاسکے۔

فوجی آپریشن:
وزیرستان اورملک کے دیگر حصوں میں آپریشن کی شدت کی وجہ سے یقینی طور پرطالبان کا کماند اور کنٹرول متاثر ہوا،لیکن اس کے باوجودجب آ پریشن پوری شدت سے جاری تھا توجنوری میں شکارپور کے دھماکے میں 60افراد ہلاک ہوے، اس کے بعد پشاور میں ہونے والے دھماکے میں 23افرادہلاک ہو۔جبکہ اگست میں پنجاب کے وزیرداخلہ
شجا ع خانزاد پر ہونے والے خود کش حملے میں 17سے زائد لوگ ہلاک ہوگے۔ستمبرمیں منگل باغ کی تنظیم نے حکومت کے11حامی ملکوں کومار دیا گیا،جبکہ اسی ماہ شمالی وزیرستان میں میجر اور کپٹن سمیت سپاہیوں کو نشانہ بنایا گیا۔یوں ایک کامیاب آپریشن کے باوجود طالبان کی طرف سے حملے جاری ہیں۔
دہشت گردی میں اضافہ:
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان ایک بار پھر منظم ہورہے ہیں اس کا اظہار دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی شکل میں دیکھ جاسکتا ہے لیکن اس کے ساتھ خیبرپختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔فوجی تنصیبات اور فوج پر حملوں کے ساتھ امن کمیٹیوں کے ارکین اور حکومت کے قریب لوگ حملوں کی زد میں ہیں۔پاکستان میں دہشت گردی کی جنگ میں اب تک80ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور اس جنگ میں 50لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں
مذاکرات اور آپریشن:
نواز حکومت نے شروع میں مذاکرات کی بات کی اور اس حوالے سے کمیٹیاں بھی بنائی تو اس وقت یہی بتایا جاتا تھاکہ یہ ہی مسئلہ کا حل ہے اور پھر جب کراچی ائیرپورٹ پر حملہ ہوا تو آپریشن کو واحد آپشن کے طور پر پیش کیا گیا مگر اس میں شدت دسمبر میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کے بعد آئی جس میں اب تک ہزاروںلوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے، ان حالات میں افغانوں اور پختونوں کو شدیدنسل پرستی کا سامنا ہے۔خاصکر افغان جو پچھلے30سال سے اس ملک میں رہ رہے ہیں اور ان کا سب کچھ اس ملک سے ہی وابستہ ہے ایک نسل ایسی ہے جس کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں ،یہ یہاں ہی پیدا ہی ہوئے اور انہوں نے اس ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کیا ۔لیکن اب ان کے خلاف نفرت بڑھ کر ان کو بیدخل کیا جارہا ہے۔مذاکرات اور آپریشن ایک تسلسل سے جاری ہیں۔دہشت مخالف جنگ کے تحت2002میں وزیرستان میں میںآپریشن کیا گیا۔جبکہ وانا میں 2004میں فوجی آپریشن کیا گیا۔اس کے بعد طالبان کمانڈر نیک محمد کے ساتھ پشاور کے کمانڈر نے27مارچ کو معاہدہ کیا۔اس کے بعد سے آپریشن اور معاہدے ریاست اپنی ضرورت کے مطابق کرتی رہی ہے،لیکن دہشت گردی کی خوفناکی برقرار ہے۔
۔
سامراجی مداخلت:
طالبان کی دہشت گردی اور رجعت کے باوجود اصل حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کی بنیادی وجہ سامراجی مداخلت ہے،افغان انقلاب میں روسی بیوکریسی کی مداخلت ، امریکی سامراج ، اس کے اتحادیوں سعودی عرب اور پاکستان کی مداخلت نے ایسے ماحول کو جنم دیا جس میں خانہ جنگی ،وحشت اوربربریت نے اس خطے کو تباہ کردیا۔یہ جنگ اب صرف امریکی مداخلت تک محدود نہیں ہے،بلکہ انڈیا اور دیگر ممالک کے بھی اس میں اپنے مفادات ہیں۔جس سے یہ ممالک دہشت گرد پراکسی کی مدد بھی کررہے ہیں۔یوں سامراج اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت جنگ اور دہشت گردی کو ختم کرنے کی بجائے اس کو مسلسل بڑھاوا دے رہی ہے۔
سامراج اور دہشت گردی کے خلاف جدوجہد
افغان انقلاب سماجی تبدیلی کی نچلے طبقات کی طرف سے ایک حقیقی کوشش تھی۔یہ اس نظام زر سے بغاوت تھی جو افغانوں پر قبائلی ظلم وجبر کی صورت میں مسلط تھا۔لیکن سامراجی مداخلت نے اس خطہ کو آگ اور خون میں دھکیل دیا ۔جس میں انقلاب کی بربادی اور جبر کے خلاف مزاحمت دہشت گردی کی شکل میں سامنے آتی ہے جس میں وحشت اور تباہی بہت نمایاں ہے۔سامراجی قبضہ اور ریاست کی جنگ دہشت گردی میں کمی لانے کی بجائے اس میں اضافے کا باعث ہی بن رہی ہے۔ان حالات میں مختلف ممالک کے لیے اپنے مفادامیں مداخلت کے لیے کافی مواقع پیدا ہوجاتے ہیں۔ دہشت گردی سے نجات کی جدوجہد کواپنی بنیاد میں سامراج مخالف ہونا ہوگا اور یوں ہی یہ واضح کیا جاسکتا ہے کہ سامراج کی مخالفت صرف طالبان نہیں کررہے اور پھر ان کی مخالفت مستقل بھی نہیں ہے۔اس جدوجہد کو سیاسی طور پر شہروں اور دیہاتوں میں عوام کو منظم کرنا ہوگالیکن اس کے ساتھ اس کو ایک عالمی تحریک بننا ہوگا جو نہ صرف نیٹو کے قبضے کی مخالفت کرئے بلکہ علاقائی قوتوں کی مخالفت کرئے جنہوں نے اپنے مفادات کے لیے خطہ کو خو ن میں نہلا دیا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: