حکمران طبقہ کے بڑھتے ہوئے تضادات،دہشت گردی اورآپریشن

لاہور کے پارک میں ہونے والے خودکش حملے میں 74افراد ہلاک اور 370 سے زائد زخمی،اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی (جس میں ایسٹر کی خوشی منانے والی کرسچن آبادی کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی)جو چھٹی کے دن پر فرصت کے لمحے گزارنے اور بچوں کی خواہش یا خوشی کے لیے پارک میں آئے تھے۔جو زندہ بچ گے یہ اپنے ساتھ ساری عمر کا غم اور دکھ لے کرگے۔ بچے اور خواتین جو جھولا جھول یا آئس کریم سے لطف انداوز ہورہے تھے ، خودکش دھماکے نے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کردیا۔
گلشن اقبال پارک ایک لوئیر مڈل کلاس علاقے میں قائم ہے جہاں بڑی تعداد مڈل کلاس ،محنت کش اور غریب لوگ اپنے بچوں سے ساتھ آتے تھے کیونکہ یہ پارک ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں یہ اپنے بچوں کے ساتھ خوشی کے چند لمحات گزار سکتے تھے۔اس خودکش حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ،یہ دھماکہ اورایسے دیگر واقعات ان کی انتہائی رجعتی نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایک طرف جہاں حکمران طبقہ کی طرف سے مذمتوں اور گہرے دکھ کا اظہار کیا جارہا ہے وہاں اس المناک واقعہ پر ایک دفعہ پھر شدت کے ساتھ آپریشن ،جنگی جنون اور سیکیورٹی کے مطالبات میں اضافہ کا طوفان سامنے آیا کہ مزید آپریشن ہی امن لاسکتا ہے ۔حالانکہ پچھلی ایک دہائی کا تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ سامراج کی یہ جنگ جس قدر پھیلتی ہے اس قدر تباہی اور بربادی لے کرآتی ہے۔ہر آپریشن کا آغاز’’امن‘‘ کے لیے ہوتا ہے ۔لیکن اس کے نتیجے میں ریاست اپنی بالادستی بحال کروانے کے لیے بڑے پیمانے پرتباہی پھیلاتی ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام لوگ بے گھر ہوتے ہیں اور انہیں نسل پرستی اور قید و بند کا سامنا کرنا پڑتاہے۔اس کے ساتھ پچھلے چند سالوں میں حکومت نے بڑے پیمانے پر ایسے قوانین اور اقدامات کیے ہیں،جو شہری آزادیوں پر بڑا حملہ ہے،جیسے ملٹری کورٹس کا قیام،میڈیا اور شہریوں پر اظہار رائے کی پابندیاں،سکیورٹی اداروں کو ورنٹ کے بغیر گرفتاری کا اختیار،فون ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاکی نگرانی کے ذریعے عام لوگوں کے خیالات پر کنٹرول ،لیکن اس سب کے باوجود دہشت گردی میں خاتمہ کی بجائے مزید اضافہ ہوا ہے اور یہ قوانین محنت کشوں اور مظلوموں کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔
ؒ یہ صورتحال خیبر پختوان خواہ سے بڑھا کر کراچی،سندھ،بلوچستان اور اب پنجاب میں آگئی ہے،ان تمام آپریشنوں اور جبر کے باوجود دہشت گردی میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اس واقعہ کے فورا بعد جس طرح پنجاب میں آپریشن شروع ہوا۔یہ حکمران طبقہ اور ریاست میں بڑھتے ہوئے تضادات کو ظاہر کررہا ہے۔فوج پہلے ہی کراچی ،اندارن سندھ،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں آپریشن کررہی تھی اوراب اس نے اپنے دائرہ اختیار کو پنجاب میں بھی بڑھا لیا ہے۔جبکہ خارجہ پالیسی پر بھی پہلے سے ہی ان کا اختیار تھا۔احمد رشید کے مطابق نواز شریف فوج کی جانب سے صوبے میں آپریشن کے خلاف ہیں لیکن اس خودکش حملے کی وجہ سے فوج نے یہ آپریشن شروع کردیا ہے اور یہ صورتحال ملک میں فوجی اقتدار کے امکانات کو بڑھا رہی ہے،جبکہ حامد میر کے مطابق فوج یہ سمجھتی ہے کہ جنوبی پنجاب میں مذہبی اور بلوچ عسکریت پسند موجود ہیں جن کے خلاف آپریشن ضروری ہے ۔یہ ساری صورتحال پاکستان میں حکمران طبقہ میں تضادات کو گہرا اور ایک ٹکراو کی کفیت کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
سامراجی جنگ اور آپریشنز مزید رجعت اور وحشت کو جنم دیتے ہیں اور یہی سب کچھ مشرق وسطی کی صورتحال سے واضح ہے اور پاکستان میں بھی ایک دہائی سے زائد آپریشنز یہ واضح کررہے ہیں۔ان حالات میں جہاں حکمران طبقہ کی پالیسیاں ناکام ہیں وہاں لبرل اور لیفٹ لبرل کی اس ریاست سے امید کہ یہ طالبان کا خاتمہ کرکے ایک سیکولر اور لبرل ریاست قائم کرسکتے ہیں،حقیقت میں ایک سراب کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور سرمایہ داری نظام اور سامراجیت سے امید وابستہ کرنے کے مترداف ہے۔جب کہ حقیقت میں آج کے عہد میں جنگ مخالف تحریک ہی حقیقت میں طالبان کی دہشت گردی کے راستے میں عوامی مزاحمت تعمیر کرسکتی ہے،جو اپنی بنیاد میں سامراج اور سرمایہ دارنہ ریاست کے خلاف ہو۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: