برازیل میں ردانقلاب کا خطرہ،جدوجہد جاری ہے

سوشلسٹ لیگ برازیل
برازیل کی کانگرس جو 570ممبران پر مشتمل ہے، میں دائیں بازو کی انتہائی کرپٹ اور رجعتی اپوزیشن نے دوتہائی اکثریت سے صدر ڈلمازوریف کے خلاف آئینی بغاوت کے زریعے 17اپریل کومواخذے کے عمل کا آغازکرکے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔
اس قرارداد کی حمایت میں367،مخالفت میں137،جبکہ7ممبران نے کرائے دہی میں حصہ نہیں لیا اور دو ممبران غیر حاضر تھے،اب یہ قرارداد سینٹ میں جائے گی اور اگر وہاں منظور ہوجاتی ہے تو اس کا مطلب ہے ورکرز پارٹی کی ڈلمامستعفی ہوجائے گی اور اس کی جگہ PMDBکے مائیکل ٹرمر صدر بن جائے گا جس پر ڈلما کی نسبت نہایت سنجیدہ کرپشن کے الزامات ہیں۔
حکومت اور اس کے حامیوں نے کانگرس میں نہایت جانفشانی سے قانونی اور سیاسی دلائل کے ذریعے مواخذے کو مسترد کیا،تاکہ ان ممبران کو جیت سکیں جنھوں نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا۔لیکن وہ مواخذے کی کاروائی کے آغاز کو روکنے میں ناکام رہے۔
پورے ملک کی سڑکوں اور چوراہوں میں ایک بار پھر تحریک کے پرانے بہادر اور جان باز کارکنان، نوجوان کے دلیرانہ جوش اور جذبہ کے ساتھ متحرک نظر آئے۔ان کا حوصلہ،ولولہ اور منظم جدوجہد میں ایک سماجی انصاف پر مبنی سماج کے لیے تمام تر امکانات موجود ہیں۔کانگرس میں ووٹ کے نتائیج پر سب برہم تھے ،لیکن وہ سڑکوں پر جدوجہد کو جاری رکھنے کے حامی ہیں تاکہ سینٹ میں آئینی بغاوت کو روکا جاسکے۔یہ جدوجہد بیکار نہیں ہے۔اس نے ثابت کیا ہے کہ کانگرس محنت کش طبقہ کی نمائندہ نہیں ہے۔اس کی مجموعی اکثریت نجی ملکیت کی حامی ہے اور یہ ان کے مفاد میں قانون سازی کرتی ہے۔ان کو صرف رشوت اور حکومت میں اعلیٰ عہدوں کے ذریعے ہی اپنے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔
اتنی بری تعداد میں ووٹ نہ صرف اس کا اظہار ہے،بلکہ ان کی تقریروں سے یہ واضح تھا کہ وہ کس طبقہ کے مفاد کا دفاع کررہے ہیں۔اس ساری صورتحال میں یہ واضح ہے کہ انتہائی دائیں بازوکو ان سماجی اصلاحات اور جمہوری حقوق سے نفرت تھی جو محنت کش طبقہ نے کئی دہائیوں کی جدوجہد سے حاصل کی تھیں۔
انتہائی دائیں بازو کے ممبرJair Bolsonaroنے چلا کر کہا کہ میرا ووٹ کیمونزم اورساپولو کے خلاف اورکرنلBrilhante Ulstraکی یاد میں ہاں میں ہے۔1964-85کی عہد آمریت میں بدنام زمانہ ٹارچر سیل کا سربراہ تھا۔مارکو فیلوسینو نے اسی رویہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمسخر آمیز انداز میں کہا الوداع پیبلز کی پارٹی،جبکہ دیگر نے ورکرز پارٹی کے ووٹرز کو آوارہ گرد قرار دیا۔اس وجہ سے ہم بغیر کسی شک و شبہ کے کہ سکتے ہیں کہ یہ کانگرس محنت کش طبقہ اور غریب عوام کی نہیں بلکہ یہ امیروں اور مراعات یافتہ لوگوں کی نمائندہ ہے۔
ہم کانگرس میں جنگ ہار گے ہیں،لیکن جدوجہد ابھی شروع ہوئی ہے۔ہم عام ہڑتال سے اس بغاوت کی مزاحمت کرسکتے ہیں۔بڑی ٹریڈ یونیز جو محنت کشوں کی نمائندہ ہیں کو محنت کش کی آئینی بغاوت کے خلاف تحریک اورنفرت کی بنیاد پرعام ہڑتال کو منظم کر ناہے۔ٹریڈ یونیز کے ساتھ دو بڑی تنظیموں Frente Brasil PopularاورFrente Povo Sem Medo جو ایک ماہ سے بغاوت کے خلاف تحریک کو منظم کررہی ہے،لیکن اس کے ورکرز پارٹی کی طرف سے سماجی اصلاحات پر حملوں کے خلاف بھی جدوجہد کررہی ہیں،یہ تحریک کی شدت اور اس کے مزاحمتی کردار کو ظاہر کررہاہے۔
ان تمام تحریکیوں کو مشترکہ جدوجہد کی حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے جس میں بے زمین کسانوں کی تحریک اوربے گھر ورکرز اور نوجوانوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ہمیں یہ واضح کرنا چاہیے کہ صرف حکومت کا مستقبل ہی نہیں ہے بلکہ وہ تما م اصلاحات اور حقوق داؤ پرہیں جو طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد حاصل کیے تھے۔اگر ہماری تحریک بھی اس بغاوت کو سینٹ میں تکمیل سے نہیں روک پاتی تو اس کا واحد حل سرمایہ دار طبقہ کے اقتدار کی بنیادوں پر حملہ کرنا ہوگا،یعنیپیدواری قوتوں پر ان کے کنٹرول کے خلاف جدوجہد کرنا ہوگی اور یہ جدوجہد فیکٹریوں،زمین اور مائینز میں لڑجائے گی۔
ہمیں یوم مئی کو جو عالمی مزدور تحریک کا دن ہے اس دن اپنی جدوجہد کو بڑھنا ہوگا اور بغاوت کے خلاف ایک عام ہڑتال کی کال دینی ہوگی۔
ہر حق پر حملہ کے خلاف جدوجہد۔
جمہوری حقوق کا دفاع کرو۔
ہم بغاوت کو قبول نہیں کریں گئیں بلکہ اس کے خلاف جدوجہد منظم کرئیں گئیں۔
بغاوت کو عام ہڑتال سے شکست دو۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: