ٹوری حکومت ،نیولبرازم اور طبقاتی جدوجہد

تحریر:کے ڈی،ترجمہ:یاسر رضا
16اپریل کو لندن میں پیپلز اسمبلی کے صحت،مکانوں،تعلیم اورنوکریوں کے لیے مظاہرے میں بڑی تعداد میں محنت کش عوام شریک ہوئے،منتظمین کے مطابق150000سے زائد لوگ اس مظاہرے میں شریک ہوئے۔
پیپلز اسمبلی برطانیہ میں کٹوتیوں مخالف کمپین ہے،جواہم ٹریڈ یونینز،مقامی کمپینز ،لیبرپارٹی کی برانچیں اورفارلیفٹ کے گروپوں پر مشتمل ہے ۔پہلی دفعہ اسے لیبرپارٹی کی قیادت یعنی جیریمی کاربن اور اس کے نائب جان میک ڈونلڈ کی حمایت بھی حاصل ہے۔
مظاہرے کی کال چار مطالبات کے گرد تھی،NHSکے حوالے سے اس کا مطالبہ تھا کہ حکومت کٹوتیوں کا خاتمہ کرئے اور صحت کے اہم ادارے کی نجکارری نہ کی جائے۔نجی مکانوں کے کرایہ میں اضافہ کو کنٹرول کیا جائے اور سماجی ملکیت میں موجود گھروں کو نہ تو فروخت کیا اور نہ ہی ان کو گرایا جائے۔نوکریوں کے حوالے سے اس کا مواقف ہے کہ کم ازکم اتنی تنخواہ دی جائے جس میں موجود صورتحال میںآسانی سے گزار بسر ہوسکے اور یونین مخالف قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔2010میں ٹیویشن فیس میں جو9000پاونڈ کاسالانہ اضافہ کیا گیا تھا اس کا اور تعلیم کی مارکٹیزیشن کا خاتمہ کیا جائے۔جیریمی کاربن نے ریلی کے لیے ویڈیو پیغام بھیجا،جولیور پول میں ایک مقامی الیکشن کی کمپین کررہا تھا ۔جس میں اس نے کہا کہ کٹویتاں ایک سیاسی انتخاب ہے نہ کہ معاشی ضرورت اور لیبرپارٹی سے اپیل کی کہ وہ اس کے خلاف جدوجہد کرئے۔یونین اور کمیونٹیز کمپین:مظاہرین دوپہر کے وقت سنٹرل یونیورسٹی آف لندن میں اکھٹا ہونا شروع ہوئے،اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں ٹریڈیونینز کی نمائندگی موجود تھی،خاصکر بڑی یونینز جس میںUnite, Unison،ٹیچرز ،پبلک اور سول سروس کی یونینز شامل تھیں،اس کے علاوہ نرسز اور ینگ ڈاکٹرز بھی موجود تھے جو اس وقت حکومت کی مجوزہ نجکاری کی پالیسی کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں۔ریلی میں مختلف یونینز اور تنظیموں کے جھنڈے اور غبارے اس کی رنگ رنگی میں اضافہ کررہے تھے۔
اس ریلی میں بڑی تعداد میں کٹوتیوں مخالف مقامی کمپینز،ینگ ڈاکٹر اورمہاجرین کے حامی گروپ بھی شریک تھے،یعنی وہ سب لوگ تھے جو موجود نظام کے مختلف پہلوں کے خلاف متحرک ہیں۔
مومینٹم کے ارکین کی بھی بڑی تعداد مظاہرے میں موجود تھی جو لیبرپارٹی کے لیڈر جیریمی کاربن کے حامی ہیں اور انہوں نے وزیراعظم جیریمی کاربن کے پلے کارڈ اٹھ رکھے تھے۔
جب ریلی تلفیگار اسکوئر پر پہنچی جو پارلیمنٹ ہاوس اور وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی رہائش گاہ کے قریب ہے تو حسب معمول وہاں مقررین کی تقریر ہوئیں،لیکن اس دفعہ یہ زیادہ ریڈیکل اور دلچسپ تھیں،اس سے لیبر پارٹی کی سنیئر قیادت نے خطاب کیا،لیبر پارٹی کی قیادت 2008کے بحران کے بعد کٹوتیوں مخالف احتجاجات میں شاذو نازر ہی شریک ہوئے تھے۔
جان میک ڈانلڈ جو لیبر پارٹی کے معاشی ترجمان ہیں کی تقریر میں اہم سیاسی پیغام موجود تھا جس پر لیبر پارٹی کی قیادت نے طویل مدت سے کوئی بات نہیں کی تھی۔اس نے کہا کٹوتیوں کی مخالفت ہمارے عہد کی ایک اہم سیاسی جدوجہد ہے۔یہ کٹوتیوں کا پیکچ ہے جوNHSکے لیے خطرہ ہے،یہ پیکچ ہی مقامی انتظامیہ کومکانوں کی تعمیر سے روکتا ہے۔اس کی وجہ سے ہی بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے اور لوگوں زیرو آور کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں۔یہ کٹوتیاں ہماری نوجوان نسل کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں۔
پچھلے 20سالوں میں لیبر پارٹی کی قیادت بھی ٹوری حکومت کی طرح نیو لبرل پالیسیوں پر عمل پیرا تھی،یہ ٹھیک ہے کہ ان کی رداصلاحات کی رفتار تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ٹوری حکومتوں سے سست تھی،لیکن انہوں نے خود کو ٹریڈ یونینز سے علیحدہ رکھا اور ہڑتالوں کی مذمت کی۔حالانکہ وہ یونینز سے فنڈکی مد میں باقائدگی سے لاکھوں پونڈ وصول کرتے تھے۔
دہائیوں میں یہ پہلی دفعہ ہے کہ لیبر قیادت کی طرف سے اصلاحات کا مطلب کٹوتیاں نہیں ہے،بلکہ یہ محنت کشوں کی زندگیوں میں بہتری کے لیے اقدامات کا وعدہ بھی کررہی تھی خاص کر جو غیر محفوظ اورکم تنخواہوں پر کام کررہے ہیں۔اس کے علاوہ یہ معذورں اور مہاجرین کے حقوق کا بھی دفاع کررہے ہیں۔
لیبر پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد کٹوتیوں کا خاتمہ کردے گی اور NHSکی نجکاری روک دے گی اور ان تمام لوگوں کے لیے جن کو مکان کی ضرورت ہے کے لیے ہم لاکھوں کی تعداد میں حکومت کی طرف سے مکان تعمیر کریں گے تاکہ بے گھروں کو مکان فراہم کیے جاسکیں۔
ہم معذوروں اور بوڑھوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کریں گئیں تاکہ وہ ایک بہتر اور اچھی زندگی گزار سکیں۔
اس نے کہاکہ لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم یہ اصلاحات کیسے کرئیں گئیں تو ہمارا جواب واضح ہے کہ اس کے لیے ادائیگی امیرلوگ اور کارپوریشنز کریں گئیں۔
اس نے پانامہ لیکس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیسے امیر اس کے ذریعے کھربوں روپے پر ٹیکس نہیں دیتے،آخر میں اس نے ڈیوڈ کیمرون حکومت سے مستفعی ہونے کا مطالبہ کیا۔
جان میک ڈانلڈ نے ینگ ڈاکٹرز کی جدوجہد اور ہمت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمت اورجذبہ کے ساتھ ہمیں اظہار یکجہتی کی ضرورت ہے،متحدہ محنت کشوں کو کبھی شکست نہیں ہوئی۔
اس کے بعد برطانیہ کی سب سے بڑی ٹریڈ یونینLen McCluskey نے تقریر کی،اس کی ممبرشپ14لاکھ سے زائدہے،جس میں بڑی تعداد مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں ہے۔اس کے بہت سارے ممبران سٹیل کی صنعت کے زوال کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں،جس کی مارگریٹ تھیچر نے 1980میں نجکاری کی تھی۔
Mark Turner جو ٹاٹا سٹیل میں کام کرتاہے،جس کی بندش کا خطرہ ہے،اس نے انفراسٹکچر کی تعمیر پر زور دیا تاکہ ایک بہتر دنیا تعمیر کی جاسکے،اس نے کہا کہ اگر سٹیل کے پلانٹ بند ہوتے ہیں تو یہ محنت کشوں ان کے خاندانوں اورکمیونٹیز کے لیے ایک بڑی تباہی ہوگی۔
Yannis Gourtsoyannisکی آمد پر سب سے خوشی کا اظہار ہو،جو ایک ینگ ڈاکٹر ہے اور برطانیہ کی میدیکل ایسوسی ایشن کا رکن ہے۔
اس نے کہا ٹوری نجی منافع کے لیےNHSکوفروخت کرنا چاہتے ہیں،لیکنNHSکے دس لاکھ ورکرز ایسا ہونے نہیں دیں گئیں،ہمارے ساتھ دیںNUTہمارا ساتھ دے رہی ہے ہم بھی ان کے ساتھ ہیں۔
NUTکوجبری تجویز کے تحت انگلش سکولوں کیacademisationکا سامنا ہے،یعنی یہ سکول اب بھی طالب علم کو مفت تعلیم فراہم کرئیں گے،لیکن یہ مقامی انتظامیہ کے تحت نہیں ہوں گے اورنجی سرمایہ دار اس کے نصاب اور اساتذہ کے لیے شرائط وضوابط اور تنخواہ کا ارسرنو تعین کرسکتے ہیں،بہت ساری اکیڈمیز مذہبی چریٹیز اور ایسے ادارے کنٹرول کررہے ہیں جن کا ایجوکیشن میں کوئی تجربہ نہیں ہے۔
برطانیہ کی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے محنت کشوں میں مزاحمت جنم لے رہی ہے جو بڑی تحریکیوں کا باعث بن سکتی ہے۔
اس کے لیے یہ مظاہرہ ایک اہم بنیاد بن سکتاہے۔ہمیں حکومت کے منصوبے کے نفاذ کے خلاف ینگ ڈاکٹرز اور ٹیچرز کی حمایت کرنی چاہیے۔ مئی میں ہونے والے الیکشن میں لیبر پارٹی کی مونسپل اور مئیر کے الیکشن کی جیت کے لیے ایک متحرک کمپین کی ضرورت ہے۔برطانیہ میں یورپی یونین کے مسئلہ پر ہونے والے ریفرنڈیم میں اس سے علیحدہ ہونے کی مخالفت کی ضرورت ہے اورمہاجرین کے حقوق کے دفاع اور جو برطانیہ میں پناہ لینا چاہیں ان کوپناہ دنے کی حمایت کی جائے۔
ٹوری پارٹی کو اس وقت اندرونی تضادات کا سامنا ہے،خاصکر یورپی یونین میں برطانیہ کے مستقبل کے حوالے سے اوراس کی پارلیمنٹ میں برتری بھی زیادہ نہیں اس وجہ یہ رجعتی قانون سازی کے حوالے کچھ معاملات میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ہے۔
لیبر،ٹریڈیونینز اور سوشلسٹ تحریک کو مقامی اور قومی سطح پرمتحدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ٹوری حکومت کے منصوبوں کو شکست دی جاسکے اور ڈیوڈ کیمرون کی حکومت کا خاتمہ کیا جاسکے اس سے پہلے کہ وہ ہماری صحت اور تعلیم کے اداروں کو تباہ کرئے اورٹریڈ یونین تحریک پر مزید پابندیاں عائد کرئے۔
کرئے۔اگر کیمرون کی حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو ہمیں لیبر پارٹی کی حکومت کی کوشش کرنی چاہیے جو سنجیدگی کے ساتھ جیریمی کاربن اور جان میک ڈانلڈ کے وعدوں پر عملدآمد کروائے یوں ہی پارٹی میں دائیں بازو کو شکست دی جاسکتی ہے جو پارٹی کے ڈحانچے کو کنٹرول کررہی ہے۔
لیکن یہ واضح ہے کہ یہ جدوجہد کا آغاز ہے،جس طرح ہم نے یونان میں سارئیزا کی الیکشن کامیابی میں دیکھ ،جو کٹوتیوں مخالف جماعت تھی۔جس کے خلاف بنکروں،سرمایہ داروں اور عالمی مارکیٹ نے شدید معاشی اور سیاسی دباؤ ڈالا۔سرمایہ کے اس حملے کا سامنا کرنے کے لیے محنت کشوں کی میلٹنٹ حکومت کی ضرورت ہے جو ٹریڈیونینز تحر ک اور تنظیم کو اپنی بنیاد بنائے۔
ایسی لیبر حکومت نہ صرف رداصلاحاٹ کا خاتمہ کرسکتی ہے،بلکہ اپنے وعدوں کی تکمیل بھی جو اس کی قیادت کررہی ہے،اسے استحصال کرنے والوں اور ریاست کی طاقت کا خاتمہ کرنا ہوگا اور یہ سب سوشلسٹ انقلاب سے ہی ممکن ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: