کے ای ایس ی کے محنت کشوں کی جدوجہد

کے ای ایس ی کی نجکاری کو سات سال ہوچکے ہیں۔اس وقت حکمران طبقے کا یہ مواقف تھا،سرکاری انتظام میں ادارہ کام نہیں کرپارہا۔اس میں نئی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جوریاست کے پاس نہیں ہے۔نجی شعبہ اس میں سرمایہ کاری کئے گا،جس سے بجلی کی فراہمی بہتر ہوگی ،اس کی پیدوار میں اضافہ ہوگااور اس سے بجلی کی قیمتوں
میں کمی آئے،جس سے عام شہری مستفید ہوں گے۔
سات سال گزرنے کے باوجود نہ تو KESCمیں نئی سرمایہ کاری ہوئی اور نہ اس کی فراہمی بہتر ہوئی،بلکہ پچھلے چند سال اس بات کے گواہ ہیں کہ صورتحال بد سے بدتر ہوئی ہے۔اس عرصے میں اس کے مالکانہ میں کئی دفعہ تبدیلی آئی۔
منافع کے حصول کے لیے نئی سرمایہ کاری کی بجائے پاور جنریشن میں کمی کردی گی،جس کی وجہ سے کراچی کے لوگ طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا کررہے ہیں اور انتظامیہ بجلی واپڈ سے خرید رہی اور قیمت بھی نہیں ادا کر رہی،جس کی وجہ سے KESCاس وقت اربوں روپے کی مقروض ہے۔ڈسٹری بیوشن سسٹم تباہ حال ہے،کاپر کی تاروں کو فروخت کرکے پیسے کمائے گے ہیں اور اس کی جگہ ناقص سلور کی تاریں لگادی کئیں ہیں۔اس کے علاوہ انتظامیہ کے ای ایس ی کی قیمتی زمین کو فروخت کرکے مزید اربوں روپے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
اسی لیے وہ بڑی تعداد میں نوکریوں کا بھی خاتمہ چاہتے،تاکہ ان کے منافع میں اضافہ ہوسکے،اسی لیے چند ماہ پہلے انہوں نے 4ہزار سے زائد نوکریوں کا خاتمہ کردیا،جس کے نتیجے میں بڑی جدوجہد نے جنم لیا اور محنت کشوں نے ہیڈکواٹر پر قبضہ کرلیا اور انتظامیہ کو گھٹنے ٹیکنے پڑئے۔اب کی بار انتظامیہ نے 300سے زائد محنت کشوں چارج شیٹ دیدی۔
یہ حالات ظاہر کر رہے ہیں کہ انتظامیہ نے 4000سے زائد محنت کشوں کو جدوجہد اور دباؤ کے تحت بحال تو کردیا تھا،لیکن وہ اپنے منصوبے سے دستبردار نہیں ہوئے ہیں۔اس وجہ سے سی بی اے یونین اور دیگر یونینوں نے ایک اتحاد تشکیل دیا،انہوں نے کراچی پریس کلب سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ لگا رکھا اور ان کا مطالبہ ہے کہ محنت کشوں کو برطرف نہ کیا جائے۔ہر روز ہزاروں محنت کش روز جمع ہوتے ہیں اور جدوجہد کا عظم بلند کرتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں محنت کشوں کی جدوجہد میں شمولیت سے انتظامیہ خوفزدہ اور مختلف سازشوں میں مصروف ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اس مقصدکہ لیے حکمران طاقت کا استعمال کریں۔ان حالات میں اتحاد اورایک عام ہڑتال کے زریعے نہ صرف انتظامیہ کامقابلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔
محنت کشوں کے خلاف تمام نوٹس واپس لیے جاہیں۔
کے ای ایس ی کو ریاستی تحویل میں لے کر اس کو محنت کشوں کے حوالے جمہوری کنٹرول میں دیا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: