April 2, 2016

میڈی کیم کے محنت کشوں کا برطرفی کے خلاف احتجاج

آج میڈی کیم فیکٹری کورنگی انڈسٹریل ایریا کراچی نے 850عورتوں اور126مردوں کو نوکری سر برخاست کر دیا ۔ورکر کے اختیاج پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کی جس سے متعدد عورتیں اور مرد ذخمی ہوئے۔میڈی کیم والے گزشتہ تین ماہ میں 2000سے زائد ورکرز کو نوکری سے برخاست کر چکے ہیں ۔

میڈی کیم گروپ آف کمپنیز Dental Care, Skin care, Fair care, Health care, Herbal care, Pharmaceutical کی مصنوعات بناتے ہیں اس کے عام استعمال کے پرڈاکٹ میں جن میں عالمی برانڈ بھی شامل ہیں ۔
اطلاعات کے مطابق میڈی کیم اپنے ورکرز کو 11000روپے تنخواہ دئے رہا تھا جبکہ نکالے جانے والے اکثریتی ورکرز کو گزشتہ تین ماہ سے تنخواہ نہیں دی گئی تھی ۔ورکرز کے مطالبہ پر کمپنی ان کو تنخواہ میں اضافہ کا لالچ دئے کر خاموش کروا دیتی تھی جب بھی کوئی ورکر تنخواہ کا مطالبہ کرتا تواس کو نوکری سے بغیر کسی پیشگی نوٹس برطرف کر دیا جاتا یہ سلسلہ گزشتہ دو ماہ سے جاری تھا کل انتظامیہ نے تقریبا ایک ہزار ورکرز کو زبانی نوٹس کے ذریعہ نکال کر ان پر گیٹ بند کر دیا ۔جب ورکرزنے اپنے مطالبات کے حق روڈ بند کیا تو انڈسٹریل ایریا پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کر دیا جس میں عورتیں اور مرد دونوں ذخمی ہوئے۔
فیکٹری کے آگے موجود لوگوں نے بتایا کہ فیکٹری انتظامیہ نے پولیس کے لئے بھی گیٹ نہیں کھولا اور ہیڈ محرر انڈسٹریل ایریا فیکٹری گیٹ پھلانگ کر انتظامیہ سے ملنے گیا اور اسی طرح باہر آئے ۔پویس واقعہ کی تفصیل بتانے سے انکاری تھی ایس ایچ او انڈسٹریل ایریا غلام رسول سیال موقع پر موجود تھا جو حالات کے بارے میں کسی قسم کی کوئی بھی معلومات دینے سے انکاری تھا۔
ورکرز نے بتایا کہ فیکٹری انتظامیہ ورکرز پر دباو آال رہی ہے کہ وہ اگر 8500 ماہوار تنخواہ پر ملازمت کرنا چاہتے ہیں تو وہ ملازمت کو جاری رکھ سکتے ہیں ۔
یاد رہے حکومت سندھ کے نوٹیفیکیشن نمبرMWB/R&S/ US/1(1) /88/015مورخہ 25.08.2015کے ذریعہ غیر ہنر مند ورکرز کے معاوضے میں اضافے کا اعلان کیا تھا مگر میڈی کیم والوں نے اس نوٹیکفیشن کے باوجود ورکرز کو کم معاوضہ دیا اور قانونی معاوضے کے مطالبہ کی پاداشت میں ان کو ملازمت سے برخاست کر دیا

Continue reading

March 31, 2016

حکمران طبقہ کے بڑھتے ہوئے تضادات،دہشت گردی اورآپریشن

لاہور کے پارک میں ہونے والے خودکش حملے میں 74افراد ہلاک اور 370 سے زائد زخمی،اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی (جس میں ایسٹر کی خوشی منانے والی کرسچن آبادی کی بھی اچھی خاصی تعداد تھی)جو چھٹی کے دن پر فرصت کے لمحے گزارنے اور بچوں کی خواہش یا خوشی کے لیے پارک میں آئے تھے۔جو زندہ بچ گے یہ اپنے ساتھ ساری عمر کا غم اور دکھ لے کرگے۔ بچے اور خواتین جو جھولا جھول یا آئس کریم سے لطف انداوز ہورہے تھے ، خودکش دھماکے نے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کردیا۔
گلشن اقبال پارک ایک لوئیر مڈل کلاس علاقے میں قائم ہے جہاں بڑی تعداد مڈل کلاس ،محنت کش اور غریب لوگ اپنے بچوں سے ساتھ آتے تھے کیونکہ یہ پارک ان چند جگہوں میں سے ایک ہے جہاں یہ اپنے بچوں کے ساتھ خوشی کے چند لمحات گزار سکتے تھے۔اس خودکش حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ،یہ دھماکہ اورایسے دیگر واقعات ان کی انتہائی رجعتی نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ایک طرف جہاں حکمران طبقہ کی طرف سے مذمتوں اور گہرے دکھ کا اظہار کیا جارہا ہے وہاں اس المناک واقعہ پر ایک دفعہ پھر شدت کے ساتھ آپریشن ،جنگی جنون اور سیکیورٹی کے مطالبات میں اضافہ کا طوفان سامنے آیا کہ مزید آپریشن ہی امن لاسکتا ہے ۔حالانکہ پچھلی ایک دہائی کا تجربہ یہ واضح کرتا ہے کہ سامراج کی یہ جنگ جس قدر پھیلتی ہے اس قدر تباہی اور بربادی لے کرآتی ہے۔ہر آپریشن کا آغاز’’امن‘‘ کے لیے ہوتا ہے ۔لیکن اس کے نتیجے میں ریاست اپنی بالادستی بحال کروانے کے لیے بڑے پیمانے پرتباہی پھیلاتی ہے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام لوگ بے گھر ہوتے ہیں اور انہیں نسل پرستی اور قید و بند کا سامنا کرنا پڑتاہے۔اس کے ساتھ پچھلے چند سالوں میں حکومت نے بڑے پیمانے پر ایسے قوانین اور اقدامات کیے ہیں،جو شہری آزادیوں پر بڑا حملہ ہے،جیسے ملٹری کورٹس کا قیام،میڈیا اور شہریوں پر اظہار رائے کی پابندیاں،سکیورٹی اداروں کو ورنٹ کے بغیر گرفتاری کا اختیار،فون ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیاکی نگرانی کے ذریعے عام لوگوں کے خیالات پر کنٹرول ،لیکن اس سب کے باوجود دہشت گردی میں خاتمہ کی بجائے مزید اضافہ ہوا ہے اور یہ قوانین محنت کشوں اور مظلوموں کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔
ؒ یہ صورتحال خیبر پختوان خواہ سے بڑھا کر کراچی،سندھ،بلوچستان اور اب پنجاب میں آگئی ہے،ان تمام آپریشنوں اور جبر کے باوجود دہشت گردی میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اس واقعہ کے فورا بعد جس طرح پنجاب میں آپریشن شروع ہوا۔یہ حکمران طبقہ اور ریاست میں بڑھتے ہوئے تضادات کو ظاہر کررہا ہے۔فوج پہلے ہی کراچی ،اندارن سندھ،خیبر پختون خواہ اور بلوچستان میں آپریشن کررہی تھی اوراب اس نے اپنے دائرہ اختیار کو پنجاب میں بھی بڑھا لیا ہے۔جبکہ خارجہ پالیسی پر بھی پہلے سے ہی ان کا اختیار تھا۔احمد رشید کے مطابق نواز شریف فوج کی جانب سے صوبے میں آپریشن کے خلاف ہیں لیکن اس خودکش حملے کی وجہ سے فوج نے یہ آپریشن شروع کردیا ہے اور یہ صورتحال ملک میں فوجی اقتدار کے امکانات کو بڑھا رہی ہے،جبکہ حامد میر کے مطابق فوج یہ سمجھتی ہے کہ جنوبی پنجاب میں مذہبی اور بلوچ عسکریت پسند موجود ہیں جن کے خلاف آپریشن ضروری ہے ۔یہ ساری صورتحال پاکستان میں حکمران طبقہ میں تضادات کو گہرا اور ایک ٹکراو کی کفیت کو بھی جنم دے سکتی ہے۔
سامراجی جنگ اور آپریشنز مزید رجعت اور وحشت کو جنم دیتے ہیں اور یہی سب کچھ مشرق وسطی کی صورتحال سے واضح ہے اور پاکستان میں بھی ایک دہائی سے زائد آپریشنز یہ واضح کررہے ہیں۔ان حالات میں جہاں حکمران طبقہ کی پالیسیاں ناکام ہیں وہاں لبرل اور لیفٹ لبرل کی اس ریاست سے امید کہ یہ طالبان کا خاتمہ کرکے ایک سیکولر اور لبرل ریاست قائم کرسکتے ہیں،حقیقت میں ایک سراب کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور سرمایہ داری نظام اور سامراجیت سے امید وابستہ کرنے کے مترداف ہے۔جب کہ حقیقت میں آج کے عہد میں جنگ مخالف تحریک ہی حقیقت میں طالبان کی دہشت گردی کے راستے میں عوامی مزاحمت تعمیر کرسکتی ہے،جو اپنی بنیاد میں سامراج اور سرمایہ دارنہ ریاست کے خلاف ہو۔ Continue reading

March 6, 2016

انڈیا میں محنت کشوں کی عام ہڑتال

تحریر:شیراز احمد
ہندوستان میں دس بڑی ٹریڈ یونینزفیڈریشنز کی اپیل پر کی جانے والی عام ہڑتال اس خطے کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال تھی۔ ٹریڈ یونین راہنما اس ہڑتال میں دس کروڑ محنت کشوں کی شمولیت کی امید کررہے تھے لیکن 2ستمبر کو پندرہ کروڑ محنت کشوںنے ہندوستان کو ایک دن کے لیے مکمل جام کر دیا یہ خود ٹریڈیونین لیڈرشپ اور بایاں بازو کے لیے حیران کن تھی۔ محنت کشوں کی ہڑتال مودی سرکار کی رداصلاحا ت کے خلاف تھی۔مودی سرکار نے نیولبرل ایجنڈے پرتیزی سے عملدرآمد شروع کردیا تھا،وہ سماجی پروگراموں میں سرمایہ کاری کو کم کررہاہے اور اس کے ساتھ غریبوں اورمحنت کشوں کو ملنے والی مراعات میں کٹوتیوں کے علاوہ سرکاری محکموں جیسے ریلوے،پورٹ،کولا مائینز،ائیرپورٹ اور شہر ی بس سروس کے بجٹ میں کٹوتیاں کررہا ہے۔ وہ جلد از جلد ایسے قوانین بنائے کی کوشش کررہاہے،جس سے ٹریڈ یونین کمزور یا بالکل ختم ہو جائیں اور ہندوستان کے محنت کشوں کا استحصال کرنا مزیدآسان ہو جائے تا کہ سرمایہ داروں کے منافع میں مزید اضافہ ہوسکے۔راجستان میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے وہاں مودی کے حکم پر ریاستی حکومت سکولوں اور صحت کی سہولیات کی نجکاری کرہی ہے۔
دس ٹریڈیونین فیڈریشنز نے اس ہڑتال کی اپیل کی تھی،جن میں آل انڈین ٹریڈ یونین فیڈریشن اورسنٹر آف انڈین ٹریڈیونینز بھی شامل تھیں جن کا تعلق کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا اور کیمونسٹ پارٹی انڈیا مارکسسٹ سے ہے۔اس کے علاوہ نیشنل ٹریدیونین فیڈریشن آف انڈیا نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی جو کانگرس سے منسلک تھی،اس فیڈریشن کے صدر نے کہا کہ سونیا گاندھی نے اس ہڑتال میں شمولیت کی حمایت کی ہے۔
بھارتیہ مزدور سنگھ جو بی جے پی سے منسلک فیڈریشن ہے ابتداءمیں اس نے بھی رداصلاحات کے خلاف ہڑتال کی حمایت کی،لیکن بعدازں اس نے ہڑتال میں شرکت سے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ حکومت نے یونینز کے اہم مطالبات تسلیم کرلیے ہیں۔
وزیر خزانہ ارن جیٹلے کی قیادت میں ایک وفد نے ٹریڈیونین لیڈر شپ سے 26اور27اگست کو ملاقات کی جس میں انہوں نے ٹریڈیونین لیڈرشپ سے ہڑتال کو ختم کرنے کہاجس کے حوالے سے بے کار وعدے بھی کیے ۔لیکن ٹریڈیونینز نے انہیں ماننے سے انکار کردیا۔2ستمبرنے ایک نئی تاریخ رقم کی اور مزدور طبقہ کی سرمایہ داری نظام میں بنیادی حیثیت کوسامنے لایا۔جس کی وجہ سے بورژوا ٹی وی چینلوں اور اخبارات کو ہڑتال کی شاندار کامیابی کو تسلیم کرنا پڑا۔ ہندوستان کے ایک اہم اخبار دی ہندوکے مطابق ،”دس اہم ٹریڈ یونینوں کی جانب سے لیبرقوانین میں تبدیلیوں اور سرکاری اداروں کی نجکاری کے خلاف ہڑتال سے ملک کے بہت سے حصوں میں کاروبار زندگی متاثر ہوا،جن میں مغربی بنگال،تری پورہ،کیرالا اور کرناٹکا شامل ہیں۔ہڑتال کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں ٹرانسپورٹ، بینک اور دوسری صنعتیں شدید متاثر ہوئیں۔“ عام ہڑتال کر رہے ہیں۔ان کے مطابق مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کی ”کاروبار دوست“ پالیسیوں کے باعث ان کاروزگار خطرے میں ہے اور عام لوگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔یونینوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سرکاری اداروں کی نجکاری اور لیبر قوانین میں تبدیلی نہ کرے۔رپورٹوں کے مطابق تقریباً پندرہ کروڑ محنت کش جن میں بینک، مینوفیکچرنگ، تعمیرات اور کوئلے کی صنعت کے مزدور بھی شامل ہیں اور دس بڑی یونینوں سے تعلق رکھتے ہیں بدھ کے روز کام پر نہیں آئے۔ہڑتال سے پبلک ٹرانسپورٹ بھی شدید متاثر ہوئی ہے اور دارالحکومت دہلی سمیت بہت سے شہروں میں بس اڈوں پر مسافروں کی لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔“
این ڈی ٹی وی کے مطابق، ”تقریباً پندرہ کروڑ افراد ملک گیر ہڑتال پر ہیں اور بینکوں اور ٹرانسپورٹ جیسی اہم سروس ملک کے مختلف حصوں میں بند ہیں۔ کولکتہ میں بائیں بازو کی خواتین کارکنوں کو پولیس سڑک پر گھسیٹ رہی ہے۔بینک، دکانیں اور بہت سے تعلیمی ادارے بند ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں پر موجود نہیں۔اس بھارت بندھ سے جنوبی ریاستیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ 3500 کے قریب سرکاری بسیں حیدرآباد دکن میں کھڑی ہیں جبکہ کیرالا کے شہر تھری ونانتھاپورم میں بھی پبلک ٹرانسپورٹ رکی رہی ہے۔بنگلور میں سکول اور کالج بند ہیں۔ وزیر خزانہ ارن جیٹلے سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دس بڑی ٹریڈ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال دی۔بہت سے بینکوں نے پورے ملک میں سارا دن اپنے دروازے بند رکھے۔“
ٹریڈیونین کی جانب سے پیش کیے گے بار ہ نکات میں مہنگائی اور بیروزگاری کے خاتمے کامطالبہ بھی شامل تھا جبکہ دیگر مطالبات میں لیبر قوانین پر سختی سے عملدرآمد،لیبر قوانین میں مجوزہ مزدور دشمن ترامیم کا خاتمہ اور سرکاری اداروں کی نجکاری کے منصوبوں کا خاتمہ شامل تھے۔یونینوں کا یہ مطالبہ بھی تھا کہ تمام محنت کشوں کو جس میں غیر رسمی شعبے کے محنت کش بھی شامل ہیں ،سوشل سکیورٹی اور کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے۔بینکوں کی یونینز بھی حکومت کی بینکوں کی نجکاری کی پالیسی کی خلاف ہڑتال میں شامل تھیں۔غیر رسمی شعبے کے مزدوروں کو منظم کرنے والی بہت سی ٹریڈیونینزبھی ہڑتال کی حمایت کر رہی تھیں۔
لیکن اس ہڑتال کا بنیادی نقطہ محنت کشوں کا حکومت کی پالیسیوں کے خلاف بڑھتا ہوا غصہ تھا۔پچھلے پانچ سالوں میں ہندوستان کی سطح پر2010,2012,2013میں عام ہڑتالیں ہوئیں ہیں جس میں کڑور ہا محنت کش شریک ہوئے۔اس ہڑتال میں پندرہ کروڑ افراد کی شرکت محنت کشوں میںنیولبرل پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کا عظم واضح کررہی تھی۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ)نے کہا،”ہڑتال کامیاب تھی، اس کے باوجود کہ مرکز نے آخری وقت پر محنت کشوں کو احتجاج سے روکنے کی کوشش کی“۔ CPIکے جنرل سیکرٹری ایس سدھاکر ریڈی نے کہا کہ ،” یہ بہت بڑی کامیابی ہے اور توقع سے بڑھ کرکامیابی ۔یہ محنت کش طبقے کا تاریخی کارنامہ ہے اور حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف ان کی طاقت کا اظہار ہے“۔ ٹریڈ یونین آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس(AITUC) کے جنرل سیکرٹری گروداس داسگپتانے اس تحریک کو ”شاندار“ قراردیا۔
مودی کے جیت کی وجہ جہاں کانگریس کی ناکام حکومت تھی اس کے ساتھ کمیونسٹ پارٹیوں کی سرمایہ دارنہ نظام کی بالادستی کی قبولیت ایک بڑی وجہ تھی۔دس سال تک نیولبرل پالیسیوں کے تحت سرمایہ داروں کو نوازنے کے نتیجے میں گزشتہ سال کے انتخابات میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کمیونسٹ پارٹیاں جنہیں 2005ءکے انتخابات میں بڑی حمایت ملی اور لوک سبھا میں 64 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئیں وہ بھی سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کی بجائے سیکولرازم کے دفاع کے نام پرکانگریس کی مخلوط حکومت کا حصہ بن گئیں۔ سرمایہ دارنہ ترقی کے لیے جس نوعیت کے مزدور دشمن اقدامات کئے اس کے نتیجے میں انہیں گزشتہ سال انتخابات میں بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔اس شکست کی بنیادی وجہ کیمونسٹ پارٹی کی حکومت نے نیولبرل پروگرام کے نام پر رداصلاحات پر عملدآمد شروع کردیا۔جس پر دیگر سرمایہ دارنہ پارٹیاں عمل پیرا تھیں۔
یہ ہڑتال ہندوستان میں طبقاتی جدوجہد کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اتنی بڑی کامیابی اس وقت سامنے آئی جب کوئی اس کی امید نہیں کررہا تھا،لیکن پھر یہ صرف ہندوستان میں ہی نہیں ہورہا بلکہ دنیا بھر میں سرمایہ دارنہ نظام کے بحران کو محنت کشوں پر ڈالنے کے خلاف ردعمل سیاسی شکل میں سامنے آرہا ہے۔نیولبرل سرمایہ داری ہندوستان میں ترقی لے کر آئی ہے۔لیکن اس سے مستفید جہاںایک طرف بڑا سرمایہ ہوا ہے اور ان کی دولت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے بہت سے عالمی سطح پر بڑے سرمایہ داروں میں شامل ہوگے ہیں،اس کے ساتھ10سے15فیصداپر مڈل کلاس ہی اس سے فائدہ اٹھا سکی ہے۔لیکن اس کی قیمت ہندوستان کے کے غریب ،کسان اور محنت کش ادا کررہے ہیں۔یہ واضح ہے کہ کیسے آج سرمایہ داری میں ہموار اور یکساں ترقی ممکن نہیں،حالانکہ ہندوستان کو سرمایہ داری اور جمہوریت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جن کے لیے غربت ،بےروزگاری،ذلت اور محرومی میں اضافہ ہوا ہے۔جس نے ایک طاقتور مزدور تحریک کو جنم دیا ہے اور اس سے طبقاتی کشمکش مزید شدت اختیار کرئے گی۔یہ ہڑ تال اس سوال کو سامنے لائی ہے کہ طاقت کے حقیقی مرکز کہاں ہے۔لیکن اس کامیاب ہڑتال کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کے حملوں میں کمی نہیں آئے گی اور نہ ہی محنت کشوں کی صعوبتوں میں کمی آئے گی۔مذاکرات تکلیف دہ حد تک طوالت اختیار کر سکتے ہیں اور کئی ماہ تک بے نتیجہ جاری رہیں گے۔حکمران طبقات کوشش کریں گے کہ محنت کش طبقے کی انقلابی صلاحیت کو زائل کیا جائے اور ان کو مایوس کیا جائے۔اس وقت اشد ضرورت ہے کہ اس انقلابی صلاحیت کو سیاسی رنگ دیا جائے۔یہ حالات محنت کش طبقہ کی پارٹی اور انقلابی پروگرام کے سوال کو شدت سے سامنے لاتے ہیں۔

March 2, 2016

دہشت گردی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

تحریر:راضوان علی
ستمبر18 کوپشاور میں ایئربیس پرطالبان نے حملہ کیا،جب ہر طرف فوجی آپریشن کی کامیابی پرشادیانے بجائے جارہے تھے۔2014کے آخری دنوں میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردی کے بعد آپریشن میں تیزی لائی گی۔
آپریشن ضرب غضب کو ایک کامیابی بتایا جارہا ہے اور کہا جارہاتھا کہ طالبان کا صفایا کردیا گیااور اب اس آپریشن کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کا خاتمہ کیا Continue reading

November 1, 2015

سرمایہ دارنہ جمہوریت میں آزدیوں پر حملہ

جمہوریت کی فتح:
مئی2013میں انتخابات اورپیپلزپارٹی سے نواز لیگ کو اقتدار کی منتقلی کو جمہوریت کی فتح قرار دیا گیا۔میڈیا اور حکمران طبقہ کے دانشور پیپلزپاٹی کے پانچ سالہ اقتدار میں تمام تر ”مشکلات“اور کرپشن کے باوجود اسکی تکمیل کو جمہوری روایات کی پختگی بتا رہے تھے۔ان کے مطابق آج کے عالمی حالات میں اب جمہوریت کے Continue reading

September 26, 2014

عوامی ورکرز پارٹی کی پہلی کانگرس اور انقلابی پارٹی کی جدوجہد

عوامی ورکرز پارٹی کا قیام پاکستانی سیاست میں محنت کش طبقہ کی پارٹی تشکیل دینے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت تھی،آج کے عہد میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب سرمایہ داری نظام کوبدترین بحران کا سامنا ہے اور سامراجی تضادات میں شدت آرہی ہے ، حکمران طبقہ پوری دنیا میں محنت کشوں پر بڑے حملے کررہا ہے اور اس کے خلاف جدوجہد جنم لے رہی ہے۔اس لیف لیٹ کا بنیادی مقصدپارٹی منشور میں سامراج وسرمایہ داری مخالفت ،ریاست اورقومی سوال پر موجود تضادات پر بحث کرنااور اس سوال کو پیش کرنا ہے کہ پاکستان میں محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی کا پروگرام کن بنیادوں پرہونا چاہیے۔اس کے ساتھ یہ کے پچھلے دوسالوں میں پارٹی کو جن اہم سوالوں کا سامنا رہا ہے اس پر درست پوزیشن نہ لینے کی وجہ کیا تھی اور کیا موجودمنشور پر محنت کش طبقہ کی انقلابی پارٹی تعمیر کی جاسکتی ہے۔

سرمایہ داری کی مخالفت ،نجی ملکیت کے خاتمے کے بغیر

عوامی ورکرز پارٹی کا منشورسامراجیت کی مخالفت کرتاہے۔لیکن اس کے ساتھ یہ نجی سرمایہ اور ملٹی نیشنل کو بھی کام کرنے کی اجازات دیتے ہیں ۔ صنعتی ترقی کے لیے نجی سرمایہ کاری اور ملٹی نیشنل کو اجازات دینے میں سوشلزم حل کے طور پر نظر نہیں آتا،یہاں ترقی کو سرمایہ داری سے منسلک کردیا جاتا ہے۔یہ سماجی تبدیلی کو نظریاتی طور پر توسرمایہ داری مخالفت میں دیکھتی ہے،لیکن اس کی سرمایہ داری مخالفت کا سرمایہ داری کے خاتمے ،سوشلسٹ انقلاب اور منصوبہ بند معیشت سے کوئی تعلق نہیں ہے

دہشت مخالف جنگ

پارٹی کا منشوردہشت گردی کے خلاف جنگ کوسامراجی طاقتوں اور انکی گماشتہ ریاستوں کی طرف سے دنیا پر بالادستی قائم کرنے کا منصوبہ کہتی ہے اور اس کے پاکستانی ریاست اور سماج پر ہونے والے اثرات کا بھی ذکر کرتی ہے۔لیکن سامراج اورریاست کے خلاف جدوجہد کے طریقہ کار کو سامنے لانے کی بجائے اس کو حکمران طبقہ کے پرانے اور نئے بیانئے میں کشمکش تک محدود کردیتی ہے،جس نے طبقاتی جدوجہد کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔معیشت پسندی اور لبرل ازم میں ان کے لیے سامراج یا ریاست کے خلاف جدوجہد سے زیادہ،رجعت کے خلاف جنگ اور آپریشن اہم ہوتے ہیں اور یہ سامراج اور ریاست کے ساتھ کھڑئے ہوجاتے ہیں۔یوں مظلوم پختونوں پرریاست کے آپریشن کی حامی بن جاتے ہیں۔

ریاست اور سماجی تبدیلی:

ریاست کا سوال انقلابی نظریہ اور جدوجہد میں نہایت اہمیت کا حامل ہے اور یہ ہی انقلابی جماعت کو اصلاح پسندی سے علیحدہ کرتا ہے۔ عوامی ورکرزپارٹی کا پروگرام ریاست کے نوآبادیاتی کردار پر بات کرتا ہے کہ ’’اس ریاست نے اپنے عوام کو سامراجی یلغار اوراور نوآبادیاتی ریاستی ڈھانچے کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے‘‘ پروگرام مزید کہتا ہے کہ’’فوجی وسول افسر شاہی اور بالادست طبقات نے مضبوط مرکز ،نام نہاد قومی سلامتی اور اسلام کے تحفظ کے نام پر ایک ہیبت ناک اشرافیائی ریاست بنا رکھا ہے،جہاں ایجنسیاں راج کرتی ہیں‘‘یہ ایک درست نشاندہی ہے اور اس کے ساتھ’’ عالمی سرمایہ داری کی جگہ جمہوری اور سوشلسٹ نظام کے قیام‘‘کو منزل قرار دینادرست ہے۔پروگرام کے ابتدائیہ میں عمومی طور ریاست،سامراج اور عوام کے تعلق کی وضاحت کی گی ہے اور یہ اہم جمہوری مطالبات کو بھی سامنے لاتا ہے،جو مزدور تحریک کی جدوجہد میں اہم ہے۔یہ وضاحت بھی کرتاہے کہ یہ کس طبقہ کی نمائندہ ہے اور سوشلزم کو حل کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔لیکن سوشلزم کی جدوجہد کو اس ریاست کے خاتمے سے وابستہ نہیں کرتا اوراس کااظہار ’’ہماراپروگرام‘‘میں واضح ہوجاتا ہے۔جہاں ریاست کے حوالے سے پروگرام سرمایہ داری کی حدود سے باہر نہیں جاتا، ریاست کا سوال مجرد سوال نہیں ہے،بلکہ اس کی اہمیت روزانہ کی جدوجہد میں بہت واضح ہوکر سامنے آتی ہے،جیسے عوامی ورکرز پارٹی کی قیادت نظام کے بحران اور حکمران طبقہ کے ٹکراؤ کی صورتحال میں جدوجہد کا تناظر سامنے لانے کی بجائے جمہوریت کے نام پر نواز حکومت کی حمایت میں آجاتی ہے ۔اسی طرح ڈاکٹر مالک کے وزیراعلی منتخب ہونے کو مثبت پیش رفت قرار دیاجاتا۔یہ مواقف ریاست اورلبرل ڈیموکریسی میں حل دیکھتا ہے۔

قومی سوال:

پارٹی منشور قومی تضاد کو بنیادی تضاد اور پاکستان کو کثیرالقومی ریاست تو تسلیم کرتا ہے،اور قومی جبر کی مخالفت بھی کرتا ہے۔اس کے علاوہ حق خوداردیت اور علیحدگی کے حق کو نظریاتی طور پر تسلیم کرتا ہے۔لیکن عملی طور پچھلے دوسالوں میں اس کی سیاست موجود ریاستی ڈھانچے کے دفاع میں سامنے آتی ہے۔بلوچ تحریک پر اس کا مواقف ڈاکٹر مالک کی حمایت میں جاتا ہے اور یہ وہاں کی تحریک کے مطالبات کے ساتھ جڑنے کی بجائے حکومت کی حمایت میں سامنے آتے ہیں۔لحاظ ہم دیکھتے ہیں جدوجہد کے بنیادی نعرے حق خوداردیت اور علیحدگی کے نعرے کو تسلیم کرنا تو دور کی بات یہ اس بلوچ لانگ مارچ پر بھی تضادات کا شکار ہوجاتے ہیں جو گمشدہ سیاسی کارکنان کے لیے تھا،پنجاب میں مرکزی لیڈر شپ نے اس میں شرکت سے ہی انکار کردیاتھا۔جہاں ایک طرف پارٹی کی لیڈرشپ نے دہشت مخالف جنگ کی حمایت کی اس کے ساتھ ہی پختونوں مہاجرین کی سندھ میں آمد کی سندھ پارٹی نے مخالفت اور اس کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔یہ پارٹی کو ایک سوشلسٹ پارٹی کی بجائے قوم پرستی کی طرف لے جاتی ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی کا پروگرام کس بنیادپر ہو:

عوامی ورکرزپارٹی کا پروگرام دو حصوں میں تقسیم ہے،کم ازکم پروگرام جو سرمایہ دارنہ نظام میں ممکناََ حد تک اصلاحات کی بات کرتا ہے اور ’’زیادہ سے زیادہ‘‘ پروگرام جس کا مقصد سرمایہ داری کے مقابلے میں مستقبل دورمیں سوشلسٹ نظام اوران دو پروگراموں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے،یوں یہ پروگرام سوشلزم کو حتمی منزل قرار دے کر ایک طرف رکھ دیتا ہے۔جب کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پارٹی کو واضح لائحہ عمل پیش کرنے کی ضرورت ہے کہ کیسے محنت کشوں اور مظلوم اقوام و پرتوں کی جدوجہد کو سرمایہ داری نظام کے خاتمے کی جدوجہد منسلک کیا جاسکتا ہے۔کیسے ہم منصوبہ بندہ معیشت محنت کش طبقہ کے جمہوری کنٹرول میں قائم کرسکتے ہیں،جو ہمیں سرمایہ داری کے استحصال اور جبر سے نجات دلائے۔ہمیں سرمایہ داری مخالف اور سوشلسٹ کی انقلاب پارٹی کو تعمیر کرنا ہوگا۔عوامی ورکرز پارٹی اس کی طرف پہلا قدم بن سکتی ہے۔جو الیکشن میں حصہ لے اور اس کو جیتنے کی کوشش بھی کرے لیکن اس کا بنیادی مقصد سوشلسٹ انقلاب کی پارٹی کی تعمیر ہو۔ہمیں ایک ایسی پارٹی کی ضرورت ہے جو سامراج ،سرمایہ داری،جنگ،دہشت گردی،نسل پرستی،خواتین کی آزادی،ماحولیاتی تباہی کے خلاف،سوشلزم،انٹرنیشنل ازم اور منصوبہ بند معیشت کے لیے جو محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول کے لیے جدوجہد منظم کرئے۔

       محنت کش طبقہ کی پارٹی کیسی ہو:

عوامی ورکرز پارٹی اپنے قیام سے مختلف بحرانوں کا سامنا کررہی ہے،طبقاتی جدوجہد کا کوئی بھی سنجیدہ سوال اس کو بکھیر دیتاہے(جیسے بلوچ جدوجہد یا وزیرستان پر فوجی آپریشن)۔ان حالات میںیہ ضروری ہے کہ پارٹی کے پروگرام میں ریاست،سامراج ،ترقی،جمہوریت اور انقلاب کے کرادر پر تفصیلی بحث ہو ۔چونکہ پارٹی میں اس پر مختلف نقطہ ہائے نظر موجود ہیں۔بعض اوقات تو ان کے تضادات کی نوعیت اتنی شدید ہے کہ ان کی موجودگی میں ایک پارٹی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا اور جن پراتفاق کے بغیر ایک ہم آہنگ اورجدوجہد کی حامل پارٹی کا قیام ممکن نہیں ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ معاملات کو لیڈرشپ کی سطح پرحل کرنے کی بجائے، پاکستان میں سماجی تبدیلی کی جدوجہد کے اہم سوالات کوجمہوری انداز میں پارٹی کے ہر ادارے میں زیربحث لیا جائے۔اس میں پارٹی سے باہر دیگر گروپس کے ساتھیوں کو شامل کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ہمیں چھوٹے چھوٹے اختلافات اور اسمبلی کی ایک دو نشست کی سیاست سے باہر آنے کی ضرورت ہے ۔یہ دیکھنے ہوگا کہ پاکستان میں آج محنت کش طبقہ کی سیاست کیسے منظم کی جائے اور آج وہ کیا تبدیلیاں آئیں ہیں جس میں ہم عوام سے جڑا نہیں پارہے،کہاں غلطی ہے اور آج کے بدلتے ہوئے عالمی تناظر میں کیسے انقلابی سیاست تعمیر کرسکتے ہیں ۔موجود کانگرس کسی جمہوری بحث کی بجائے مختلف گرپوں کے درمیان ایک ’’سمجھوتے‘‘ کا نتیجہ ہے اور اسی لیے کہا جارہا ہے کہ منشور اور آئین پر کوئی بات نہ کی جائے اور لیڈر شپ کو پہلے سے منتخب کرلیا گیا ہے۔ یوں یہ تضادات کو حل کرنے کی بجائے ان میں مزید اضافہ کا باعث بنے گی۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ کانگرس میں جمہوری بحث ہو اور سب ڈیلگیٹس اور ممبران کو برابر حق دیا جائے کہ وہ اپنا نقطہ نظر بیان کرسکیں،خاصکر جو پارٹی کے منشور ودستور اور مرکزی لیڈر شپ پر تنقید رکھتے ہوں۔پارٹی میں الیکشن کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ فیڈرل کمیٹی کے پاس یہ حق ہے کہ وہ نئی سلیٹ پیش کرئے لیکن یہ کم ازکم دوماہ پہلے پیش کی جائے۔اس پر پارٹی میں ہر سطح پر بحث ہو جس پر اثرانداز ہونے کی کوشش نہ کی جائے اور اگر پارٹی ممبران نئی سلیٹ ،لیڈر شپ یا منشور پیش کرنا چاہیں تو ان کو اس کا بھرپور موقع ملنا چاہے اس سے پارٹی کمزور ہونے کی بجائے مزید مضبوط ہوگی جب ممبران کو یہ یقین ہوگا کہ فیصلے ان کی مرضی کے مطابق ہوں گے۔اس کے علاوہ مرکزی لیڈرشپ کو فیڈرل کمیٹی کی بجائے کانگرس کو براہ راست منتخب کرنا چاہے۔پارٹی میں اختلافی نقطہ نظر رکھنے والوں کو فیکشن بنانے اپنا مواقف بیان کرنے اورمیٹنگ کا حق ہونا چاہیے ،یوں ہی جمہوری انداز میں پارٹی آگے بڑھ سکتی ہے کہنے کامطلب ہے کہ ان جمہوری آزادیوں اور اہم موضوعات پر بحث ہی محنت کش طبقہ کی پارٹی کی تعمیر کے لیے ضروری ہیں۔یوں ہی یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ مختلف رجحانات کے درمیان تضادات پر فکری مباحث نہ صرف ممبران کی نظریاتی سمجھ بوجھ میں اضافہ کاباعث بنائیں،بلکہ نظریات میں جمود کی بجائے ان میں ارتقاء اور فکری بالغ نظری پید ہوگی

۔لیفٹ اپوزیشن عوامی ورکرز پارٹی اگر آپ اس تنقیدسے متفق ہیں،تو آئیے ملکر کانگرس اورپارٹی میں ان پر جدوجہد کریں یوں ہی ہم انقلابی پارٹی کی تعمیر کی جانب آگے بڑھ سکتے ہیں۔

June 29, 2014

یوکرائین میں ردانقلاب اور فاشسٹ مخالف جدوجہد

اوڈیسا میں منظم قتلِ عام،جس میں 42لوگ کیف کی حکومت سے منسلک فورسز کے ہاتھوں مارے گے،یہ یوکرئین حکومت کے رجعتی کردار کو واضح کرتا ہے۔میڈان انقلاب حقیقت میں ردانقلاب تھا،جو دائیں بازو کے قوم پرستوں(جو مغرب کے نیولبرل ایجنٹ ہیں)فاشسٹ فرنٹ پارٹی(سبودباہ) اور فاشسٹ ملیشاء کو اقتدار میں لے کر آیا۔موجود حکومت میں نظم ونسق برقرار رکھنے میں اہم کردارفاشسٹ ملیشاء کو دیا گیا ہے۔کیف حکومت کا مقصد،یوکرئین کو یورپ اور شمالی امریکی سرمایہ کے شکنجے میں دینا ہے اور اس کے لیے وہ
Continue reading

June 15, 2014

سامراجی ریاستوں میں بڑھتے ہوئے تضادات

ترجمہ:فیروز عمران
نئے عہد کا آغاز:
عالمی نظام کے خدوخال جو سویت یونین کے انہدام کے بعد ابھرئے تھے ان کو سیاسی سطح پر شدیدزلزلے کا سامنا ہے ۔سامراجی ممالک کے درمیان اقتصادی پابندیوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں،حکمران طبقہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ایسی کوئی بھی صورتحال کمزور معاشی بحالی کا خاتمہ کرسکتی ہے۔موجود صورتحال خانہ جنگیوں اور عالمی سطح پرایک نئی سرد جنگ کا خطرہ بڑھا رہی ہے۔اس کا مطلب ہے ہم ایک ایسے عہد کی طرف بڑھ رہے ہیں،جہاں انقلاب اور ردانقلاب تیزی کے ساتھ سامنے آئیں گے۔
امریکی بالادستی کا خاتمہ:
مشرق وسطی،مشرق،ساوتھ ایسٹ ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ میں ہونے والے واقعات امریکہ کے بالادست کردار کے خاتمہ کا اعلان کرہے ہیں اور عالمی سطح پر سامراجی تضادات کی شد ت میں اضافہ ہورہا ہے۔یہ دنیا کولوٹ مار کے لیے دوبارہ تقسیم کرنے کی کوشش کا آغاز ہے اور یہ پرانی سامراجی قوتوں امریکہ،جرمنی اور فرانس کی قیادت میں یورپی یونین ،برطانیہ اور جاپان کی قیمت پر ہوگا۔اس کا فائدہ نئے ابھرتے ہوئے سامراجی ممالک چین و روس اور تیزی سے ترقی کرے ہوئے ممالک انڈیا اور برازیل اُٹھا رہے ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جارحیت نئی طاقتوں کی طرف سے ہورہی ہے،جیسا کا مغربی حکمران طبقہ اور میڈیا کہ رہا ہے۔حقیقت اس کے برعکس ہے،امریکن اور یورپین حکمران طبقہ جنوبی ایشیا،افریقہ اور لاطینی امریکہ جو طویل عرصہ سے ان کی لوت مار کے لیے مختص تھے ان میں خاصکر چین کی بڑھتی ہوئی ’’پرامن ‘‘ مداخلت سے خوف زدہ ہے۔
سامراجی تضادات:
ان حالات میں یہ انتقامی طور پر چین اور روس کے گرد دائرہ تنگ کررہے ہیں ۔اس لیے امریک پسیفک کو اپنی حکمت عملی کامحور بنا رہا ہے اور مشرق وسطی اور افغانستان سے پیچھا چھڑا رہا ہے۔2013میں امریکی سامراج کو شام میں ذلت آمیز شکست،لاطینی امریکہ میں بڑھتی ہوئی پاپولسٹ امریکہ مخالف حکومتوں کا قیام،مختلف افریقی ممالک میں چین کا بڑھتا ہوا اثرورثوخ،امریکی سامراج کو پاگل بنا رہا ہے۔ یہاں تک کہ یوکرائین میں اس نے کھلے عام ایک خودمختیار ریاست میں فاشسٹ گرپوں کی مدد کرکے نہ صرف ان کے اقتدار کی راہ ہموار کی اور اس کے نتیجے میں کریمیا نے یوکرائین سے علیحدہ ہو کر روس سے الحاق کرلیا۔ایسا کرتے ہوئے امریکہ نے اکھڑ پن سے یورپی یونین کی طرف سے سمجھوتے کو قبول کرنے سے انکار کردیا جواس ساری صورتحال میں پوٹین کو بے عزتی سے بچا رہی تھی۔اس بغاوت نے روسی صدر کو بہانہ فراہم کیاکہ وہ کریمیا پر غیر منصفانہ قبضہ کرلے۔ پوٹن کا سامراج کسی طور پر اوباما،کیمرون اورمرکل کے سامراج سے بہتر نہیں ہے،جیسا کہ شام میں اسد کی خونی حکومت کی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ جہاں اوبامہ اور کیری ،پوٹین کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کر رہے ہیں،وہیں اس کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکیاں دئے رہے ہیں۔امریکی سامراج اس وقت وینزویلا میں دائیں بازو کے مظاہروں کو ہوا دئے رہاہے اور مصر میں آمر السیسی کے ہاتھوں ایک ہزار سے زائداخوان مظاہرین کے قتل وعام پر خاموش ہے۔
انٹرنیشنل ازم:
محنت کش ایک عالمی طبقہ ہے،جس کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کسی بھی سرمایہ دارنہ بلاک کے مفادات کے تابع یا کسی سامراجی طاقت سے وابستہ ہو کر،حتی کہ مظلوم اقوام کا محنت کش اپنے سرمایہ دار کی بالادستی قبول کر لے ممکن نہیں،۔ طبقاتی آزادی بنیادی بات ہے۔اس وقت اہم بات یہ ہے کہ اس عہد کے تقاضوں سمجھ جائے کہ ہم انتشار،جنگ اورنقلابات سے دہائیوں دور نہیں ہیں۔
ہم خود کو یہ دھوکا نہیں دئے سکتے کہ برطانیہ اس ساری صورتحال کا شکار نہیں ہوگا اور اس کو شاندار استشناحاصل ہوگا۔برطانوی سامراج جتنا بھی بوڑھا ہو یہ عالمی سطح پر استحصال اور خون میں لتھرا ہوا ہے۔
اس پرانتشار عہد میں حالات میں تیزی کے ساتھ تبدیلی آرہی ہیں۔انقلاب ، ردانقلاب اور نیم رجعتی معروض بڑی تیزی کے ساتھ سامنے آسکتے ہیں۔جن میں اکژپہلے سے طے شدہ حکمت عملی ناکام ہوجاتی ہے،ان حالات میں محنت کش طبقہ کے ہراول دستہ کو تیزی سے حالات کے مطابق اپنے لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔ عرب انقلاب2011میں ظالم حکمرانوں کے خلاف جمہوری اور جائز بغاوت تھی جیسے آج بھی شام میں جاری ہے یایوکرائین کی صورت میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ردانقلاب ،انقلاب کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
اس کے ساتھ ہمیں یہ واضح کرنا ہوگا کہ حقیقی دشمن ہمارا حکمران طبقہ ہے اوراس کی اقتصادی پابندیوں کی سختی کے ساتھ مزاحمت کرنی چاہیے،جو دنیاکو خطرناک تجارتی و سرد جنگوں اور پر انتشار اور تباکن دور کی طرف لے جارہی ہے۔

May 21, 2014

واسا کی نجکاری کا منصوبہ نامنظور


واسا کا محکمہ جولاہور کے شہریوں کو پانی اور سنیٹیشن کی خدمات فراہم کرتا ہے اور چند سال پہلے تک منافع میں تھا ۔اسے ایک منصوبے کے تحت پنجاب حکومت خسارے میں لائی تاکہ اس کی نجکاری کی جاسکے،پہلے اس کو بجلی کمرشلریٹس پر فراہم کی گئی،پھر کرایے پر جنریٹر لے کر چلائے گے اور اب جنریٹر خرید لیے گے اور یہ سب ایک ایسے انداز میں ہوا کہ ایک منافع بخش ادارہ نقصان میں چلا گیا۔اب اس کوکمپنی بنانے کانوٹس جاری ہوگیا ہے۔اس وقت تین سب ڈویژن کمپنی کے تحت ہیں،باقی بھی کمپنی کے حوالے کردیے جائیں گئیں۔شالیمار سب ڈویژن میں نئی ملازمتیں دینے کی بجائے ہفتہ وار چھٹی ختم کردی گی ہے۔اس وقت واسا میں5332ورکرز کی نوکری پکی ہے ،جبکہ 1200کے قریب محنت کش کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر ہیں۔ڈیلی ویجز کی صورتحال بہت بری ہے ان کو سال میں آٹھ ماہ کی تنخواہ ملتی ہے۔لیکن یہ اس کے باوجود نوکری کررہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ بے روزگاری بہت زیادہ ہے۔
واسا کے محنت کشوں کا جی پی فند بحال نہیں ہوا حالانکہ پنجاب بھر میں دو سال سے اسے دوبارہ لاگو کردیا گیا ہے۔کنٹریکٹ ورکرز600کے قریب ہیں اور یہ سالوں سے جاب پر ہیں لیکن ان کو مستقل نہیں کیا جارہا اور پکی نوکریوں کو ختم کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے۔تاکہ ان ورکرز اور نئے بھرتی ہونے والے محنت کشوں کو کم ازکم تنخواہ پر نوکری دی جائے۔اس وقت SKRAکمپنی نہایت کم تنخواہ پر محنت کش فراہم کرہی ہے ۔
لاہور میں پہلے 20گھنٹے پانی دیا جارہا تھا ،اب اس کی فراہمی 12گھنٹے کردی گئی ہے،پہلے بل150 تھا اب اس کو 600روپے کردیا گیا ہے،پہلے یہ سال میں 4دفعہ آتاتھا اب ہر ماہ آیا کرئے گا۔سیوریج کھولنے کی فیس بھی جلد ہی لاگو کی جارہی ہے۔ابھی یہ سب کمپنی کے تحت ہوگا ۔لیکن نجکاری میں کیا ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔لاہور کے شہری جو آج پانی کو آرام سے استعمال کرتے ہیں۔یہ ان کے لیے یہ ایک نایاب شئے بن جائے گئی۔
سولڈ ویسٹ منجمنٹ کی جب نجکاری کی گئی تھی تو حکومت محکمے کو 2ارب روپے دئے رہی تھی،اس وقت ترکی کی کمپنی کو نجکاری کے بعد 12ارب روپے دیئے جارہے ہیں اور لاہور کی صفائی میں تو کچھ خاص فرق نہیں پڑا،البتہ سالڈویسٹ منجمنٹ کے محنت کشوں کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جارہا ہے،خاص کر کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے محنت کشوں کو جن کی بڑی تعداد کرسچن ہے۔جو اس وقت سراپہ احتجاج ہیں۔
یہ صورتحال واسا کے محنت کشوں میں بے چینی کا باعث بن رہی ہے کہ نجکاری کے بعد ان کا کیا مستقبل ہوگا،خاص کر پچھلے کچھ عرصے سے مختلف بہانے بنا کر واسا کے محنت کشوں کو شدید ہراساں کیا جائے اور نوکریوں سے نکالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ان حالات میں واسا کے محنت کش پچھلے چند دنوں سے سراپا احتجاج ہیں۔آج واسا میں عام ہڑتال تھی اور محنت کشوں نے کوئی کا م نہیں کیا۔اس کے علاوہ لاہور پریس کلب پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔جس میں 4000کے قریب محنت کش شریک ہوئے اس مواقع پر پنجاب حکومت اور شہباز شریف اور نواز شریف کے خلاف شدید نعرئے بازی ہوئی اور محنت کشوں نے اس عزم کا اظہار کیا کے وہ کسی بھی صورت میں ادارے کی نجکاری نہیں ہونے دئیں گئیں۔اس احتجاج کی کال CBAنے دی تھی۔لیکن واسا کی تمام تر یونینز اس ہڑتال اور احتجاج میں شریک ہیں
Image

May 3, 2014

محنت کشوکے بھگت سنگھ

تحریر:حسن رضا
فیصل آباد کے پاور لومز کے محنت کشوں کے راہنماوں کاجیل میں تیسراسال ہے۔یہ کیس ظاہر کرتا ہے کہ کیسے اپنا حق مانگنے کو حکمران طبقہ اور اس کی ریاست نے جرم میں تبدیل کردیا،جس کی سزا6محنت کشوں کو 496سال دی گی اور اب اسی کیس میں 7محنت کشوں کو287سال کی سزا سنائی گی ہے۔یہ 13محنت کش لیبر قومی موومنٹ کے راہنما تھے۔جو جولائی 2010کی محنت کشوں کی ہڑتال میں اہم کردار ادا کررہے تھے۔اس کا مقصدحکومت کی طرف سے کم ازکم تنخواہ میں17فیصد اضافہ کے اعلان پر عملدرآمدکروانا Imageتھا۔جس سے مالکان انکاری تھے۔

یکم جولائی کو جب فضل ویونگ کے محنت کش ہڑتال میں شمولیت کے لیے فیکٹری سے باہر آرہے تھے تواندار سے ان پر فائرنگ کی گی،جس پر کچھ محنت کش بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اندارگے اور انہوں نے غنڈوں کو غیر مسلح کیا۔جن کو مالکان ہڑتالی محنت کشوں پرحملہ کے لیے لائے تھے۔
محنت کشوں کی مرکزی ریلی کو اسی دن ایک بار پھر حملے کا سامنا کرنا پڑا،جس میں ایک طرف بڑی تعدادمیں مالکان کے غنڈے تھے،جنہوں نے اینٹوں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا اوردوسری طرف سے پولیس والے تھے،جنہوں نے ہوائی فائرنگ اوربے انتہا آنسو گیس کی شیلنگ کی۔جب مالکان اور ریاست کا وحشیانہ تشدد اور بربریت جاری تھی،اس دوران فیکٹری کو آگ لگ گی۔جس کا الزام ہڑتالی محنت کشوں پر عائد کردیا گیا۔جس کو بعدازں محنت کشوں کی طرف سے تشدد کے طور پر پیش کیا گیا۔حالانکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
تین دن بعداس کا مقدمہ درج کیا گیا جس میں لیبر قومی موومنٹ کے چودہ راہنماوں اور150دیگر ہڑتالیوں کو نامزد کیا گیا۔تین ماہ بعد جب ان کو عدالت میں پیش کیا گیا،تو ان پر اقدام قتل اور فائرنگ کا الزام عائد کیا گیا جس کا مقصد فیکٹری کے مالکان کا قتل تھا جس کا پہلی ایف آئی ار میں کوئی ذکر نہیں تھا۔
اس صورتحال کے باوجود عدالت نے ان محنت کشوں کو مجرم قرار دے کر496سال کی سزا سنادی۔یہ ایک شرمناک صورتحال تھی،جہاں اپنے حق کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن محنت کشوں کے راہنماوں کو بدترین سزا دی گی۔وہاںیہ اس ’’ریاست،اس کے اداروں اور قانون کی حکمرانی‘‘ کی حقیقت واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔کیسے ریاست نے سرمایہ کے خادم کے طور پر محنت کشوں کو حقوق کی جدوجہد پر وحشیانہ سزا دی۔یہ محنت کش طبقہ کی تحریک پر سرمایہ کی طرف سے ایک بڑا حملہ تھا۔جس میں یہ واضح کیا گیا کہ سرمایہ کے مفاد کے خلاف کھڑے ہونا کا کیا مطلب کیا ہو تا ہے۔یہ ان محنت کشوں کو سمجھنا ہے،جنہوں چیف جسٹس کی بحالی کی جدوجہد میں حصہ لیا کہ سرمایہ داری میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کا کیا مطلب ہو تا ہے۔
لیبر قومی موومنٹ،فیصل آباد کے پاور لومز کے2لاکھ محنت کشوں کی نمائندہ تنظیم ہے،محنت کش طبقہ کے اس حصے نے پچھلے عرصے میں جدوجہد اور قربانی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ان پر نیولبرل ریاست نے چند دن پہلے ایک اور حملہ کیا اور7محنت کشوں کو 287سال کی سزا سنائی ہے۔ان حالات یہ مزدور تحریک کی طرف سے بڑے پیمانے پرمشترکہ جدوجہد اور یکجہتی کے متقاضی ہیں۔تاکہ نہ صرف ان محنت کشوں کی رہائی کی جدوجہد کو وسیع تر کیا جائے اور ان کے موجود حق اور جدوجہد کا دفاع کیا جائے۔بلکہ یہ سرمایہ دارنہ نظام کے خلاف جدوجہد کے سوال کو بھی سامنے لاتی ہے۔
پاکستان اور عالمی مزدور تحریک سے جدوجہد اور یکجہتی کی اپیل ہے۔جس میں قید محنت کشوں کے خاندانوں اور ان کے کیس پر ہونے والے اخراجات کے لیے فنڈ ریزنگ اور احتجاجی تحریک کی ضرورت ہے،اس کو ایک وسیع تر تحریک بنایا جاسکے۔تاکہ حکمران طبقہ کو ان محنت کشوں کے لیے’’انصاف‘‘پر مجبور کیا جاسکے۔ایک مضبوط اور کامیاب تحریک محنت کش طبقہ کے باقی حصوں کو بھی اعتماد بخشے گی،جس سے پاکستان میں ایک نئی تحریک جنم لے سکتی،جو اس نظام کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.